تہران (ھمگام نیوز) قشم جزیرے میں امریکی حملے میں ایک رہائشی عمارت تباہ ہوئی جس کے نتیجے میں ایک میاں بیوی اور ان کا دو سالہ بچہ ہلاک ہو گیا، جبکہ دو کمسن بچے زخمی ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق حملہ رہائشی عمارت پر کیا گیا، لیکن مجموعی جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں پاسداران انقلاب کے مقامات پر فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شہری نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات درست ہیں تو اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایران کے جنوبی جزیرے قشم پر امریکی حملے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ دو کمسن بچے زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں ایک میاں بیوی اور ان کا دو سالہ بچہ شامل ہے۔

رپورٹ میں صوبہ ہرمزگان کی یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حملے میں زخمی ہونے والے دو بچوں، جن کی عمریں سات اور نو سال ہیں، کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق حملہ قشم جزیرے میں ایک رہائشی عمارت پر کیا گیا، تاہم حملے سے ہونے والے مجموعی جانی و مالی نقصان کی مکمل تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے فوجی اہداف، میزائل اور ڈرون تنصیبات سمیت مختلف مقامات پر وسیع فضائی کارروائیاں کی ہیں۔

دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے قشم میں رہائشی عمارت پر حملے یا شہری ہلاکتوں کے حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دفاعی اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شہری آبادی کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے۔