راسک(ھمگام نیوز ) آج جمعرات، 30 جولائی 2026 کو ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر راسک کی تحصیل پارود کے گاؤں ہیت کارگاہ میں واقع ایندھن کے ایک ڈپو میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں تین ایندھن بردار گاڑیاں، جن میں دو ٹویوٹا لینڈ کروزر بھی شامل تھیں، مکمل طور پر جل کر تباہ ہوگئیں، جبکہ واقعے میں مالکان اور ایندھن برداروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ذرائع کے مطابق، آگ ایندھن ذخیرہ کرنے کے ایک مقام پر لگی اور شعلوں نے تیزی سے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث وہاں موجود تین گاڑیاں مکمل طور پر جل گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے ذخیرہ گاہ کے مالک اور وہاں موجود ایندھن بردار افراد کو قابلِ ذکر مالی نقصان پہنچا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ جائے وقوعہ کے قریب فائر بریگیڈ اسٹیشن موجود نہ ہونے کے باعث آگ پر بروقت قابو نہیں پایا جا سکا، جس کے نتیجے میں شعلوں نے وہاں موجود گاڑیوں اور دیگر سامان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور نقصان میں مزید اضافہ ہوا۔
رپورٹ مرتب کیے جانے تک اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جبکہ مقامی ذرائع نے آگ لگنے کی اصل وجہ بھی تاحال نہیں بتائی ہے۔
مقبوضہ بلوچستان میں روزگار کے محدود مواقع کے باعث بہت سے بلوچ شہری مجبوری کے تحت ایندھن کی ترسیل کا خطرناک پیشہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ ایسا کام ہے جس میں ہر سال درجنوں ایندھن بردار افراد سڑک حادثات، آتش زدگی، تعاقب اور فائرنگ جیسے واقعات میں اپنی جانیں گنوا دیتے ہیں۔


