31 جولائی 2026
راسک (ہمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے ضلع راسک کی تحصیل پیشین کے علاقے ردیگ میں قابض ایرانی سرحدی فورسز کی مبینہ براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں ایک بلوچ کسان شہید ہوگیا۔
اطلاعات کے مطابق، جمعہ 31 جولائی 2026 کی علی الصبح، عبدالکریم بون (محمدحسنی) ولد عبدالصمد، جو پیشین، ضلع راسک کے رہائشی تھے، سرحدی فورسز کی فائرنگ میں جان کی بازی ہار گئے۔
ذرائع کے مطابق عبدالکریم اپنے چند قریبی رشتہ داروں کے ہمراہ، جو مقامی کسان ہیں، سرحدی پٹی میں واقع اپنے باغات کو پانی دینے اور ان کی دیکھ بھال کے بعد موٹر سائیکلوں پر اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ اسی دوران ردیگ کے علاقے میں سرحدی فورسز نے مبینہ طور پر بغیر کسی پیشگی انتباہ کے ان پر فائرنگ کر دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ردیگ کے کسان آبپاشی اور پانی کی تقسیم کے نظام کی وجہ سے دن اور رات کے مختلف اوقات میں اپنے باغات تک آنے جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ تاہم واپسی کے دوران ان پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں عبدالکریم بون (محمدحسنی) کے سر میں گولی لگی اور وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ جاں بحق شہری کی لاش ضلع راسک کے مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہے، جبکہ اہل خانہ قانونی کارروائی مکمل کرکے لاش وصول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس خبر کی اشاعت تک ایرانی سرحدی فورسز یا دیگر متعلقہ حکام نے فائرنگ کے واقعے اور ایک بلوچ شہری کی ہلاکت کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان یا وضاحت جاری نہیں کی ہے۔


