شال(ہمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ نوشکی میں گزشتہ چھ ماہ سے جاری فوجی محاصرہ، کرفیو، گھروں پر چھاپے اور جبری گمشدگیوں کا تسلسل بلوچ عوام کے خلاف اجتماعی سزا کی ایک منظم ریاستی پالیسی ہے، جس کا مقصد سیاسی شعور، سماجی زندگی اور قومی مزاحمت کو دبانا ہے۔ چھ ماہ گزر جانے کے باوجود معمولاتِ زندگی کی بحالی کے بجائے کرفیو میں مسلسل توسیع اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست پاکستان تشدد، بربریت اور محاصرے کے ذریعے اپنی رٹ قائم رکھنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ نوشکی کو عملاً ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں محنت کش، دیہاڑی دار، طلبہ، مریض، خواتین اور بچے سب ریاستی پالیسیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ روزگار کے ذرائع بند کر دیے گئے ہیں، نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے، علاج اور خوراک تک رسائی متاثر ہو چکی ہے، جبکہ پوری آبادی کو خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ کسی پوری آبادی کو بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم رکھنا اجتماعی سزا کی بدترین شکل اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے کہاکہ حالیہ دنوں میں پاکستانی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر چھاپوں، اجتماعی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ متعدد افراد کو حراست میں لے کر مختلف مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ کئی شہریوں کو گھروں پر چھاپوں کے دوران جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا، جن کے اہلِ خانہ مسلسل اذیت، خوف اور بے یقینی کا شکار ہیں۔
مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی سمجھتی ہے کہ جبری گمشدگیاں، فوجی محاصرہ، کرفیو اور اجتماعی سزا ایک ہی ریاستی حکمتِ عملی کے مختلف پہلو ہیں۔ بلوچستان میں قانون، آئین اور عدالتی عمل کی جگہ بربریت اور جبر کو حکمرانی کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ پالیسیاں درحقیقت ریاست کی سیاسی ناکامی، عوامی حمایت سے محرومی اور عوامی شعور کے سامنے اس کی بے بسی کا اظہار ہیں۔ آج نوشکی بلوچستان میں نافذ ریاستی جبر، اجتماعی سزا اور انسانی حقوق کی مسلسل پامالیوں کی ایک زندہ تصویر ہے۔
آخر میں کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اقوامِ متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، بین الاقوامی برادری اور تمام انصاف پسند قوتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بلوچستان، بالخصوص نوشکی میں جاری فوجی محاصرے، جبری گمشدگیوں اور اجتماعی سزا کی پالیسی کا فوری نوٹس لیں، ریاستی بے لگام طاقت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں، اور بلوچ عوام کے جان، مال، آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان پر عملی دباؤ
بڑھائیں۔


