تربت (ہمگام نیوز): معروف بلوچی شاعر مبارک قاضی کی وفات کو آج تین برس مکمل ہوگئے۔ چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ادبی سفر میں انہوں نے بلوچی شاعری کو محبت، عشق، انسانی احساس، سماجی مسائل، سرزمین، آزادی اور مزاحمت کے موضوعات سے جوڑتے ہوئے ایک ایسا منفرد شعری اسلوب تشکیل دیا جو آج بھی بلوچ معاشرے، بالخصوص نوجوان نسل میں نمایاں طور پر موجود ہے۔

مبارک قاضی 16 ستمبر 2023 کو ضلع کیچ کے شہر تربت میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں تربت میں مقیم تھے اور سنگانی سر میں اپنے دیرینہ دوست بابو عالم کے گھر انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 68 برس بتائی گئی۔ بعد ازاں ان کا جسدِ خاکی ایک بڑے عوامی قافلے کی صورت میں ان کے آبائی علاقے پسنی منتقل کیا گیا، جہاں ہزاروں افراد کی موجودگی میں ان کی سپرد گلزمین کیا گیا ۔

مبارک قاضی کو بلوچی ادبی حلقوں میں محبت سے ” واجہ ابا” کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ ان کی شاعری نے انہیں صرف ایک ادیب نہیں بلکہ عوامی سطح پر مقبول شاعر بنا دیا تھا۔ ان کے عشقیہ اشعار عام لوگوں میں مقبول ہوئے، جبکہ ان کی مزاحمتی اور سیاسی شاعری بھی مختلف ادوار میں بلوچ معاشرے کے سیاسی اور سماجی احساسات کی ترجمانی کرتی رہی۔

نصف صدی پر محیط ادبی سفر

قاضی نے نوجوانی میں شاعری کا آغاز کیا اور تقریباً نصف صدی تک بلوچی ادب میں فعال رہے۔ مختلف ادبی ذرائع کے مطابق انہوں نے بلوچی شاعری کو سادہ، رواں اور عوام کے قریب زبان میں ایک نئی جہت دی۔ ان کے اشعار ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی محفلوں، گیتوں اور روزمرہ گفتگو میں بھی جگہ بناتے رہے۔

ان کا پہلا شعری مجموعہ “زرنوشت” 1990 میں شائع ہوا، جبکہ ان کا آخری مجموعہ “شکلیں جورانی برورد” 2022 میں منظر عام پر آیا۔ دستیاب ادبی حوالوں کے مطابق ان کے دس شعری مجموعے شائع ہوئے:

1. زرنوشت

2. شاگ ماں سبزیں ساوڑءَ

3. منی عہدءِ غمءِ قصہ

4. حانی منی ماتیں وطن

5. چولاں دریا یل داتگ

6. مرگ پہ کدوہاں رپتگاں

7. جنگل چنچو زیبا اِنت

8. آپ سماکءَ جتگ

9. گسءَ واتر کنگ لوٹاں

10. شکلیں جورانی برورد

ان مجموعوں کی اشاعت مختلف برسوں میں ہوئی اور ان میں محبت، انسانی جذبات، معاشرتی زندگی، بلوچ سرزمین، سیاسی حالات اور مزاحمت جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔

محبت سے مزاحمت تک

مبارک قاضی کی شاعری کا دائرہ صرف سیاسی یا مزاحمتی شاعری تک محدود نہیں تھا۔ ان کے ہاں محبت، عورت، زندگی، انسانی رشتے، فطرت، معاشرتی مسائل اور اپنے وطن سے وابستگی بھی بنیادی موضوعات رہے۔

تاہم ان کی شناخت کا ایک اہم پہلو ان کی مزاحمتی شاعری تھی۔ ان کے اشعار میں بلوچستان کے سیاسی حالات، محرومیوں، آزادی اور بلوچ قومی احساسات کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اسی وجہ سے انہیں بلوچ ادبی حلقوں میں مزاحمتی اور قوم پرست شاعر کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

مختلف ذرائع کے مطابق قاضی کو اپنی شاعری اور سیاسی سرگرمیوں کے باعث دو مختلف ادوار میں قید کا سامنا کرنا پڑا۔ 1982 میں حمید بلوچ کی پھانسی کے خلاف احتجاج کے بعد ان کی گرفتاری اور مچھ جیل میں قید کا ذکر ملتا ہے، جبکہ 2007 میں ایک انقلابی نظم کی وجہ سے انہیں گرفتار کیا گیا اور تقریباً آٹھ ماہ تربت جیل میں گزارے۔ بعد ازاں ان کے خلاف قائم مقدمات میں انہیں بری کر دیا گیا۔

پسنی میں پیدائش اور تعلیمی سفر

دستیاب سوانحی حوالوں کے مطابق مبارک قاضی کا تعلق مکران کے ساحلی شہر پسنی سے تھا اور وہ کہدہ امان اللہ کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی تاریخ پیدائش کے حوالے سے بعض ذرائع میں 24 دسمبر 1955 جبکہ دیگر میں 24 دسمبر 1956 درج ہے۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم پسنی میں حاصل کی۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے کراچی کا رخ کیا۔ دستیاب سوانح کے مطابق انہوں نے اردو آرٹس کالج سے بی اے کیا اور بعد میں بلوچستان یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے پسنی فش ہاربر میں بھی خدمات انجام دیں۔

جوان بیٹے کی شہادت

مبارک قاضی کی ذاتی زندگی کا ایک بڑا سانحہ ان کے بیٹے ڈاکٹر کمبر مبارک کی 2014 میں شہادت تھی۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر کمبر کا تعلق بلوچ سیاسی و مزاحمتی سرگرمیوں سے تھا اور وہ کیچ کے علاقے میں ایک مسلح واقعے میں مادر وطن پر قربان ہوئے۔

جوان بیٹے شہادت نے مبارک قاضی کو اور مضبوط کر دیا ۔

بیٹے کی موت نے مبارک قاضی کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ بعض رپورٹس میں اس دور کے بعد ان کے گوشہ نشین ہونے اور ان کے گھر پر دستی بم سے حملہ کیا گیا تاہم وہ ٹوٹے نہیں بلکہ تلار کی مضبوط کے ساتھ کھڑے رہے ۔ اسی پس منظر میں ان کی بعض بعد کی شاعری میں ذاتی المیے، جدائی، درد اور مزاحمت کے موضوعات مزید نمایاں ہوئے۔

عوامی مقبولیت اور آخری سفر

مبارک قاضی کی وفات کی خبر 16 ستمبر 2023 کو تربت سے سامنے آئی تو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ان کے مداحوں اور ادبی حلقوں میں سوگ کی کیفیت پھیل گئی۔ ان کا جسدِ خاکی تربت سے پسنی لے جایا گیا، جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے آخری دیدار کیا اور نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق تربت، گوادر، کراچی، کیچ، پنجگور، جیونی، اورماڑہ اور دیگر علاقوں سے لوگ پسنی پہنچے۔

ان کی وفات کے بعد بھی بلوچستان کے مختلف شہروں میں ان کی یاد میں ادبی اور ثقافتی پروگرام منعقد ہوتے رہے۔ تربت میں ان کی یاد میں ایک تقریب کے دوران سابق ایئرپورٹ چوک کو “مبارک قاضی چوک” سے منسوب کرنے کی قرارداد بھی منظور کی گئی، جبکہ ان کے اشعار موسیقی کے پروگراموں میں پیش کیے گئے۔

اسی طرح بلوچستان اکیڈمی تربت نے بھی ان کے نام سے ادبی دیوان منعقد کیا، جس میں ان کی شاعری اور ادبی خدمات کو موضوع بنایا گیا۔

مبارک قاضی کا ادبی ورثہ

مبارک قاضی کی شاعری کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے پیچیدہ ادبی زبان کے بجائے عوام کے قریب الفاظ اور اظہار کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام صرف کتابوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بلوچ سماج میں گایا، سنا اور یاد کیا جاتا رہا۔

اسی نسبت سے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد نے مبارک قاضی کو شاعر آشوب کا خطاب عطا کیا تھا ۔

ان کے متعدد اشعار بلوچی گلوکاروں نے گائے اور ان کی شاعری نے بلوچی موسیقی اور عوامی ثقافت میں بھی جگہ بنائی۔ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کے کلام کی اشاعت، ترجمہ اور ادبی مطالعہ جاری ہے۔ 2025 میں بلوچستان اکیڈمی تربت کی جانب سے ان کے منتخب اشعار کا انگریزی ترجمہ “Every Verse for You” کے عنوان سے بھی شائع کیا گیا، جس میں ان کے دس شعری مجموعوں سے منتخب کلام شامل کیا گیا۔

مبارک قاضی کی شاعری میں عشق اور مزاحمت ایک دوسرے سے الگ موضوع نہیں بلکہ ایک وسیع انسانی اور اجتماعی احساس کے مختلف پہلو دکھائی دیتے ہیں۔ یہی امتزاج انہیں معاصر بلوچی شاعری میں ایک منفرد مقام دیتا ہے۔

مبارک قاضی کی یاد میں ان کے آبائی شہر پسنی میں ان کے ادبی دوستوں اور مداعوں نے ایک ادبی و ثقافتی اکیڈمی کی بنیاد رکھی ہے جہاں بلوچی زبان و ادب سمیت دیگر ثقافتی موضوعات پر تحقیقی کام کیا جا رہا ہے ۔

ان کی تیسری برسی کے موقع پر ان کا شعری ورثہ ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ایک زبان کا ادبی سفر صرف کتابوں سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے بھی تشکیل پاتا ہے جو اپنی زبان میں اپنے عہد کے دکھ، محبت، امید، سرزمین اور مزاحمت کو محفوظ کرتے ہیں۔

مبارک قاضی جسمانی طور پر آج موجود نہیں، تاہم ان کی شاعری اب بھی بلوچی زبان کے ادبی اور ثقافتی حافظے میں زندہ ہے۔