شال ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے سولہ سالہ لڑکی سمیت چھہ افراد قابض فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ ، جبکہ چار افراد بازیاب ہو کر اپنے اپنے گھروں پہنچ گئے ۔
تفصیلات کے مطابق
ضلع خضدار سے مسلح افراد خضدار گرلز ہائی اسکول کھٹان سے 16 سالہ سدرہ ولد اللہ بخش کو اغواء کرکے اپنے ہمراہ لے گئے۔
سولہ سالہ طالبہ کے اغوا کا واقعہ رواں مہینے 11 ستمبر کو اس وقت پیش آیا جب طالبہ اپنے اسکول میں موجود تھیں۔ واقعے کے بعد سدرہ اللہ بخش تاحال منظرعام پر نہیں آسکی ہیں۔
علاوہ ازیں مستونگ سے 16 سالہ طالب علم ابرار بلوچ ولد قادر بلوچ کو 17 اگست 2026 کو رات ایک بجے سی ٹی ڈی اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔
اس طرح پسنی کے علاقے شادیکو ر سے 30 اگست کو دو افراد، 38 سالہ کسان رشید بلوچ ولد قادر بخش اور 36 سالہ کسان لال بلوچ ولد موسٰی کو ایف سی اہلکاروں نے دوپہر ایک سے دو بجے کے درمیان ان کے گھروں سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔
قلات کے علاقے منگچر سے دکاندار الطاف بلوچ ولد خان محمد کو 3 ستمبر 2026 کو صبح 11 بجے ان کی دکان سے ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم جگہ منتقل کردیا۔
اسی طرح کوئٹہ کے کلی قمبرانی سے 27 سالہ ٹیکسی ڈرائیور بابا جان ولد محمد جان کو 10 فروری 2026 کو دوپہر ایک بجے سی ٹی ڈی اور ایم آئی کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا۔
دوسری جانب کیچ کے علاقے دشت سے جمیل ولد اقبال کو 8 ستمبر کو لاپتہ کیے جانے کے بعد 13 ستمبر کو تربت ،
شال کے منوجان روڈ سے حافظ جمیل احمد ولد چھٹا خان کو 9 ستمبر کو حراست میں لیے جانے کے بعد 12 ستمبر کو شال،
کیچ کے علاقے آپسرتربت سے 8 ستمبر کو لاپتہ ہونے والے دو ڈاکٹرز جمشیر بلوچ ولد گنگوزار بلوچ اور ماہر مزار ولد مزار بلوچ، بھی 13 ستمبر کو تربت سے بازیاب ہوکر اپنے اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔


