زاہدان میں سڑک کنارے بم دھماکے میں پولیس کے ثقافتی و سماجی امور کے نائب سربراہ سمیت دو اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیشن اور وزیر داخلہ نے الگ الگ وفود بھیج دیے۔

ذرائع کے مطابق، ایرانی مقبوضہ کے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح حملوں اور مسلح افراد کے ساتھ قابض ایرانی فوجی و سکیورٹی فورسز کی جھڑپوں میں اضافے کے بعد گزشتہ چند روز کے دوران دو سرکاری وفود بلوچستان میں بھیجے گئے ہیں۔

ان میں ایک وفد ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کی جانب سے، جبکہ دوسرا وزیر داخلہ اور قومی سلامتی کونسل کے سربراہ اسکندر مومنی کی ہدایت پر روانہ کیا گیا ہے۔

ان وفود کی روانگی مقبوضہ بلوچستان میں حالیہ دنوں کے دوران ہونے والے متعدد بڑے اور مہلک حملوں کے بعد عمل میں آئی ہے۔

تازہ ترین واقعے میں جمعہ، 9 اکتوبر 2026 کو زاہدان کے علاقے چشمہ زیارت میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں کرنل نصرت افتخاری، جو مقبوضہ بلوچستان پولیس کمانڈ کے ثقافتی و سماجی امور کے نائب سربراہ تھے، اور احسان دہمرہ نامی ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گزشتہ کئی ہفتوں سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح جھڑپوں اور فوجی و پولیس اہلکاروں سمیت ان کی گاڑیوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سراوان میں شہید سجاد آپریشنل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر حسین ظریفی اور متعدد دیگر فوجی و سکیورٹی اہلکار بھی ان جھڑپوں میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

حالیہ واقعات کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن نے بلوچستان میں ایک وفد بھیجا ہے، جبکہ وزیر داخلہ نے بھی چشمہ زیارت حملے کی نوعیت کا جائزہ لینے اور اس میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے ایک الگ وفد روانہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

حکام کے مطابق، ان اقدامات کا بنیادی مقصد بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا اور مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

تاہم، بلوچستان میں بڑھتی ہوئی شورش کو محض مسلح گروہوں کے حملوں تک محدود کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ خطہ معاشی محرومی، بنیادی ڈھانچے کی کمی، بے روزگاری، غربت، سماجی و سیاسی پابندیوں ، غلامی اور نسلی و مذہبی امتیاز کے احساس جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔

ان مسائل کے ساتھ ساتھ مقبوضہ بلوچستان میں قابض ایرانی حکومت کی پالیسیوں کا بنیادی محور بھی سکیورٹی رہا ہے۔ فوج اور پولیس فورسز کی وسیع پیمانے پر تعیناتی، کارکنوں کی گرفتاریاں، شہری احتجاج کے خلاف سکیورٹی کارروائیاں اور بڑے پیمانے پر سزائے موت پر عمل درآمد نے عوام اور حکومت کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ کیا ہے اور بلوچ قوم کو احساس غلامی کے گہرے کنویں میں ڈال دیا ہے ۔

زاہدان اور خاش کے خونی جمعے، جو اکتوبر اور نومبر 2022 میں پیش آئے، اس بلوچ نسل کشی کے اہم ترین واقعات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان واقعات کے دوران قابض ایرانی فوج اور سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے سیکڑوں بلوچ شہری شہید اور زخمی ہوئے تھے۔

ان واقعات کو کئی سال گزرنے کے باوجود متاثرین کے اہل خانہ اب بھی اپنے پیاروں کے قتل اور زخمی ہونے کے واقعات پر حکام سے جواب دہی اور عدالتی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن قابض ایرانی قاجار نسل بلوچ قوم کو ہمیشہ نہ صرف یہ احساس دلا رہے ہیں کہ آپ ایک غلام قوم ہو بلکہ بلوچ نسل کشی میں کسی بھی واقعہ کو نہیں چھوڑ رہے قابض ایران کو جہاں بھی موقعہ ملے وہ بلوچوں کی قتل و غارتگری میں ذر

ا برابر نہیں چوکتا ۔