کوئٹہ( ہمگام نیوز ) بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج 6401 ویں روز بھی جاری رہا۔
وی بی ایم پی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، آج جبری لاپتہ محمد سدیس لانگو کے ماورائے عدالت قتل کے کیس میں تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، سدیس کے لواحقین کے ہمراہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔کمیشن کے بلوچستان چیپٹر کے سربراہ جسٹس امان اللہ پسین زئی کے حکم پر محمد سدیس کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے معاملے میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی، ایس ایچ او سمیت دیگر اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور متعلقہ اہلکاروں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا۔
ترجمان کے مطابق کمیشن کے جج نے سول لائن کے ایس ایچ او کو ہدایت کی کہ سدیس کے لواحقین کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے اور ایک ہفتے کے اندر کمیشن کو رپورٹ پیش کی جائے۔
کمیشن کے جج نے انتظامیہ کو یہ بھی حکم دیا کہ محمد سدیس کی قبر کشائی کرکے ان کی میت لواحقین کے حوالے کی جائے، تاکہ اہل خانہ ان کی میت کو ادب و احترام کے ساتھ دوبارہ دفن کر سکیں۔
لواحقین کے مطابق سدیس کو رواں سال 19 اور 20 مئی کی درمیانی شب کو سیکورٹی فورسز نے کلی اسماعیل کوئٹہ سے جبری لاپتہ کردیا تھا اور 20 اگست کو چھ دیگر افراد کے ساتھ جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا. وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے محمد سدیس کے کیس میں کمیشن کے احکامات کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنظیمی سطح پر وہ اس اقدام کو سراہتے ہیں۔ ان کے مطابق، قانون کی بالادستی اور ایسے اقدامات سے شہریوں کو انصاف فراہم کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد بڑھے گا، جس کے پورے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ کمیشن محمد سدیس کے کیس میں اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرے گا، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائے گا اور متاثرہ خاندان کو ملکی قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی یقینی بنانے میں کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ کمیشن جبری گمشدگیوں کے خاتمے، لاپتہ افراد کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی روک تھام اور تمام جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔


