Homeخبریںکہنوج: قابض ایرانی سکیورٹی فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے بلوچ...

کہنوج: قابض ایرانی سکیورٹی فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے بلوچ سوختبر شہید، گاڑی الٹ گئی

کہنوج(ہمگام نیوز ) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے علاقے کہنوج میں قابض ایرانی سکیورٹی فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے ایک بلوچ سوختبر شہید ہوگیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا، جس کے بعد گاڑی بے قابو ہوکر الٹ گئی۔

ذرائع کے مطابق، یہ واقعہ گزشتہ روز منگل، 27 اکتوبر 2026 کو کہنوج کے بیرونی شاہراہ پر پیش آیا، جہاں قابض ایرانی سکیورٹی فورسز نے پٹرول لے جانے والی ایک گاڑی پر براہِ راست فائرنگ کی۔

شہید ہونے والے نوجوان کی شناخت 25 سالہ عرفان زبردست ولد اسحاق کے نام سے ہوئی ہے، جو شادی شدہ نہیں تھا بلکہ ان کی منگنی ہوچکی تھی اور وہ کہنوج کے رہائشی تھے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق، عرفان زبردست منگل کی شام تقریباً 5 بجے اپنی گاڑی میں پٹرول لے جارہے تھے کہ قابض ایرانی سکیورٹی فورسز نے انہیں پیشگی وارننگ دیے بغیر یا رکنے کا حکم جاری کیے بغیر براہِ راست فائرنگ کا نشانہ بنایا۔

فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی کے ٹائر پر گولی لگی، جس سے ٹائر پھٹ گیا اور گاڑی سڑک سے بے قابو ہوکر الٹ گئی۔ اس حادثے میں عرفان زبردست جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ کے مطابق، ان کی میت سرد خانے میں رکھے جانے کے باعث اس امکان کی بھی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا ان کے جسم پر گولی لگنے کے نشانات موجود ہیں یا نہیں۔

عرفان زبردست کے ایک رشتہ دار نے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عرفان نے بچپن میں اپنے والد کو کھو دیا تھا اور وہ اپنی ضعیف والدہ اور خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ان کی حال ہی میں منگنی ہوئی تھی اور انہوں نے انتہائی مشکلات کے باوجود شادی کے لیے گھر اور جہیز کا انتظام کیا تھا تاکہ جلد شادی کرسکیں۔

رشتہ دار کے مطابق، عرفان روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے صرف چند لیٹر پٹرول لے جارہے تھے، لیکن اہلکاروں نے کسی تنبیہ یا وارننگ کے بغیر ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ان کی جان چلی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچ سوختبروں کو نشانہ بنانے اور ان پر براہِ راست فائرنگ کے واقعات معمول بنتے جارہے ہیں۔ علاقے میں روزگار کے مواقع کی کمی اور وسیع پیمانے پر غربت کے باعث ہزاروں خاندانوں کے لیے ایندھن کی ترسیل ہی روزی کمانے کا واحد ذریع

ہ بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز