زاہدان(ہمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں ایرانی حکام نے بلوچ قیدی محمد عارف شہ بخش کو پھانسی دے دی۔ وہ تقریباً 800 روز سے زیرِ حراست تھے اور ان کی گرفتاری بڑے بھائی حامد شہ بخش کو پھانسی دیے جانے کے صرف 15 روز بعد عمل میں آئی تھی۔ ذرائع کے مطابق، عارف شہ بخش کی گرفتاری سے ان کی پھانسی کی خبر سامنے آنے تک دو سال، دو ماہ اور آٹھ دن گزر چکے تھے۔
رپورٹ کے مطابق، ہفتہ 7 نومبر 2026 کو ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے محمد عارف شہ بخش کی سزائے موت پر عمل درآمد کی خبر جاری کی۔ ان کی شناخت محمد اکبر کے فرزند، عارف شہ بخش کے نام سے ہوئی ہے، جن کی عمر گرفتاری کے وقت تقریباً 25 سال تھی اور ان کا تعلق ضلع تفتان کے علاقے قلعہ بید سے تھا۔
رپورٹ کے مطابق، عارف شہ بخش کو 29 اگست 2024 کو ایرانشہر جانے والے راستے سے ایرانی انٹیلی جنس ادارے کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے وقت نہ تو انہیں عدالتی وارنٹ دکھایا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف الزامات کی وضاحت کی گئی۔ بعد ازاں انہیں زاہدان منتقل کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عارف شہ بخش گرفتاری کے وقت ایرانشہر جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ گرفتاری کے بعد ان کے اہلخانہ نے مختلف سکیورٹی اور عدالتی اداروں سے رابطہ کرکے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم انہیں ان کی حالت اور مقامِ حراست کے حوالے سے کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا تھا۔
ذرائع نے 25 ستمبر 2024 کو ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ گرفتاری کے 24 روز گزرنے کے باوجود اہلخانہ کو عارف شہ بخش کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی تھی۔
بڑے بھائی کی پھانسی کے 15 روز بعد گرفتاری
رپورٹ کے مطابق، عارف شہ بخش کو ان کے بڑے بھائی حامد شہ بخش کی پھانسی کے صرف 15 روز بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
حامد شہ بخش، جو 28 سالہ اور محمد اکبر کے فرزند تھے، کو 14 اگست 2024 کی صبح بم جیل میں منشیات سے متعلق الزامات کے تحت پھانسی دی گئی تھی۔
سابقہ رپورٹس کے مطابق، حامد شہ بخش کو 2019 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے خلاف عائد الزامات کو مسترد کیا تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں سزائے موت سنائی گئی اور بعد ازاں اس پر عمل درآمد کر دیا گیا۔
حامد شہ بخش کی پھانسی سے لے کر ان کے چھوٹے بھائی عارف شہ بخش کی پھانسی کی خبر سامنے آنے تک دو سال، دو ماہ اور 23 دن کا عرصہ گزر چکا تھا۔
سرکاری حکام کا الزام، عدالتی کارروائی کی تفصیلات غیر واضح
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے ہفتہ 7 نومبر 2026 کو جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ محمد عارف شہ بخش کو بغاوت اور محاربہ کے الزامات کے تحت پھانسی دی گئی ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق، ان پر قلعہ بید میں ایک پولیس چوکی پر مسلح حملے میں شرکت کا الزام تھا۔ حکومتی ذرائع ابلاغ نے انہیں مسلح تنظیم جیش العدل سے وابستہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس چوکی پر حملے کے بعد انہیں مرکزی ملزم کے طور پر شناخت کرکے گرفتار کیا گیا تھا۔
تاہم ذرائع کی سابقہ رپورٹس میں ستمبر 2024 میں ان کی گرفتاری کے حوالے سے نہ تو پولیس چوکی پر حملے میں ملوث ہونے کا ذکر کیا گیا تھا اور نہ ہی کسی مسلح تنظیم سے ان کے تعلق کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس وقت ان کے اہلخانہ بھی ان کی گرفتاری کی وجوہات اور مقامِ حراست سے لاعلم تھے۔
مزید رپورٹ کے مطابق، قابض ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے حالیہ بیان میں بھی ان شواہد اور دستاویزات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں جن کی بنیاد پر عدالت نے انہیں مجرم قرار دیا تھا۔ اسی طرح عدالتی کارروائی، آزاد وکیل تک رسائی، تفتیش کے دوران ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک اور ممکنہ اعترافات کے حصول کے طریقہ کار سے متعلق بھی کوئی شفاف معلومات سامنے نہیں لائی گئیں۔
منصفانہ عدالتی کارروائی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ
محمد عارف شہ بخش کی پھانسی ایسے وقت میں عمل میں لائی گئی ہے جب ان کے بڑے بھائی کو بھی اس سے قبل منشیات سے متعلق الزامات کے تحت پھانسی دی جا چکی تھی۔ بڑے بھائی کی پھانسی کے صرف 15 روز بعد عارف شہ بخش کی گرفتاری، طویل عرصے تک اہلخانہ کو ان کی حالت سے بے خبر رکھنا اور بالآخر ان کی سزائے موت پر عمل درآمد، اس مقدمے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی ضرورت کو مزید اہم بناتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، حالیہ مہینوں میں بالخصوص مقبوضہ بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال اور مسلح جھڑپوں کے بعد بلوچ شہریوں کے خلاف سکیورٹی اور عدالتی کارروائیوں، خصوصاً سزائے موت جیسے سخت احکامات کے استعمال کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کسی شہری کو کسی مسلح تنظیم سے وابستہ قرار دینے کے لیے محض سرکاری ذرائع ابلاغ میں الزام عائد کرنا کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے قابلِ تصدیق شواہد، شفاف عدالتی کارروائی اور ملزم کو اپنے د
فاع کا مکمل حق فراہم کرنا ضروری ہے۔















