Oplus_16908288

زاہدان (ہمگام نیوز) ایران عدلیہ نے بلوچ شہری محمد عارف شہ بخش کو زاہدان کے قلعہ بید پولیس اسٹیشن پر مسلح حملے کے مقدمے میں بغاوت اور محاربہ کے الزامات کے تحت پھانسی دے دی۔ تاہم حکام کی جانب سے ان الزامات کے ثبوت میں کوئی قابلِ اعتماد دستاویز یا آزادانہ شواہد منظرعام پر نہیں لائے گئے۔

تفصیلات کے مطابق، ہفتہ 7 نومبر 2026 کو محمد عارف شہ بخش ولد محمد اکبر کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔ ایرانی عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ادارے میزان نے بھی ان کی پھانسی کی خبر شائع کی ہے۔

ایرانی عدلیہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، محمد عارف شہ بخش کو زاہدان کے علاقے قلعہ بید میں واقع پولیس اسٹیشن پر مسلح حملے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں بغاوت اور محاربہ کے جرائم کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی۔ یہ دونوں الزامات ایران کے فوجداری قانون میں سیاسی اور سیکیورٹی نوعیت کے سنگین جرائم شمار ہوتے ہیں، جن کی سزا موت بھی ہوسکتی ہے۔

عدلیہ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس اسٹیشن پر مسلح حملے کے دوران متعدد پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد عدالتی حکم پر سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات شروع کیں۔

رپورٹ کے مطابق، محمد عارف شہ بخش کو انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کے دوران اس مقدمے کے اہم ملزم کے طور پر شناخت کرکے گرفتار کیا گیا تھا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ حملے میں ان کے مبینہ کردار اور تعلق کا عدالتی کارروائی کے دوران جائزہ لیا گیا۔

ایرانی عدلیہ کا مزید کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے، عدالتی کارروائی اور بغاوت و محاربہ کے الزامات کے تحت سزا سنائے جانے کے بعد قانونی مراحل اور عدالتی ضوابط کی تکمیل کے ساتھ ان کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔

تاہم عدلیہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کوئی ایسی دستاویز، ثبوت یا آزادانہ شواہد پیش نہیں کیے گئے جن سے محمد عارف شہ بخش کا مذکورہ مسلح حملے میں کردار، ان کی مبینہ شرکت کی نوعیت یا ان پر عائد الزامات کی صحت ثابت ہوسکے۔

اسی طرح مقدمے کی عدالتی کارروائی کی تفصیلات، ملزم کو اپنی پسند کا وکیل فراہم کیے جانے، ان کے دفاعی مؤقف، استغاثہ کے شواہد کی جانچ اور ان کے مبینہ کردار کے تعین کے طریقہ کار سے متعلق بھی کوئی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

بلوچستان ہیومن رائٹس ڈاکیومنٹیشن نیٹ ورک نے اس حوالے سے کہا ہے کہ محض عدالتی اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے الزامات عائد کردینا کسی شخص کی مجرمانہ ذمہ داری ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، جب تک ان الزامات کے حق میں قابلِ جانچ دستاویزات اور شواہد پیش نہ کیے جائیں۔

نیٹ ورک نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ عدالتی کارروائی کے تمام مراحل میں منصفانہ ٹرائل کے حق اور مؤثر دفاع تک رسائی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔