کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ ذون کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ایم اے کوئٹہ کی جانب سے طلب کئے گئے جنرل باڈی اجلاس میں تمام ڈاکٹرز تنظیموں نے شرکت کی اجلاس میں 2 سینئر ڈاکٹرز پر تحقیقات سے قبل ہی ایف آئی آر کے اندارج کی مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈاکٹرز سے متعلق واقعہ کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی قانون کے مطابق بنائی جائے۔ 20گریڈ کے آفیسر کی انکوائری17گریڈ کے جونئیر آفیسرکے بجائے 20 یا 21 گریڈ کے آفیسر سے ہی کرائی جائے ڈاکٹر برادری غیر جانبدار اور صاف ،شفاف تحقیقات میں کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کیلئے تیار ہے لیکن کمیٹی کا قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا ضروری ہے اجلاس میں شریک پی ایم اے بلوچستان کے ڈاکٹر مصطفی وردگ ، پی ایم اے کوئٹہ کے ڈاکٹر کلیم اللہ مندوخیل ، ڈاکٹر مشتاق بنگھڑ ، ڈاکٹر عبدالصمد بلوچ ، ڈاکٹر اشرف سلیمان خیل ڈاکٹر بشر احمدابڑو ، وائی سی اے کے ڈاکٹر حضرت علی اچکزئی ، بلوچ ڈاکٹر فورم کے ڈاکٹر عبدالقادر عمرانی ، ملگری ڈاکٹران کے ڈاکٹر عبدلجبار اچکزئی اور جنرل کیڈر کے ڈاکٹر شابنگو مری و دیگر ڈاکٹرز نے اظہار خیال کیا اور مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ آج سے بلوچستان بھر میں تمام ڈاکٹر برادری اوپی ڈی ، وارڈز اور تمام مراکز صحت میں احتجاجاََ سیاہ پٹیاں باندھ کر فرائض انجام دیں گے اور اگر حکومت نے ڈاکٹرز کے خلاف غیر آئینی ایف آئی آر واپس نہیں لی تو تمام ڈاکٹر تنظیمیں ایک ہفتے بعد ہنگامی اجلاس طلب کریں گی اور مجبوراََ بلوچستان بھر میں اپنی خدمات سرانجام دینے سے غیر معینہ مدت تک بائیکاٹ کریں گی جسکی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت اور محکمہ صحت پر عائد ہوگی علاوہ ازیں دوران اجلاس محکمہ صحت کے تمام یونٹوں میں بیورو کریسی کی بے جا مداخلت کی مذمت کی گئی اور مداخلت کے خاتمے کیلئے بحث کی گئی جبکہ پی پی ایچ آئی کے انضمام اور ڈویژنل ڈائریکٹرز کے اختیارات سمیت دیگر موضوع زیر بحث لائے گئے ۔


