واشنگٹن ( ھمگام نیوز ) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابقامریکا کے سابق وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ انھوں نے کئی سال قبل یہ پیشین گوئی کی تھی کہ ایران امریکا کے خلاف اپنی اشتعال انگیزی کو بڑھا دے گا۔
انھوں نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک ریستوراں میں بم دھماکے کے ایرانی منصوبے پر اوباما انتظامیہ کو کمزور ردعمل پرتنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس واقعے کی تفصیل سابق امریکی وزیر دفاع جیمزمیٹس نے حال ہی میں شائع شدہ اپنی کتاب میں بیان کی ہے۔ اس کتاب کے بعض اقتباسات ‘واشنگٹن ایگزامینر’ نے شائع کیے ہیں۔
‘ایران،ایک مہلک دشمن’
جیمز میٹس 2010ء سے 2013ء تک امریکی سنٹرل کمان میں کمانڈر رہے تھے۔ انھوں نے مشرق اوسط اور وسط ایشیا میں امریکا کی فوجی سرگرمیوں کی نگرانی کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے پہلے دن سے ہی میں جانتا تھا کہ ہمارے دو بڑے مخالف ہیں۔ ایسے دہشت گرد جن کی کوئی قومیت نہیں اور ایران میں انقلابی شیعہ حکومت اور وہ دونوں خطے کو غیر مستحکم کرنے کے ذمے دار ہیں۔ ان دونوں دشمنوں میں ایران زیادہ مہلک تھا۔
میلانو کیفے اور عادل الجبیر
جیمز میٹس نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ فلوریڈا کے شہر ٹامپا میں اپنے ہیڈ کوارٹر میں ڈیوٹی پر مامور افسر نے انھیں 11 اکتوبر 2011 کو بتایا تھا کہ اٹارنی جنرل اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے واشنگٹن ‘ڈی سی’ کے ایک ریستوران کیفے میلانو پر بم حملے کا منصوبہ بنانے والے دو ایرانیوں کو گرفتار کیا تھا۔ یہ ہوٹل اس وقت امریکا میں سعودی عرب کے سفیر عادل الجبیر اور دیگر سفیروں کا پسندیدہ مقام سمجھا جاتا تھا اور اکثر یہاں اہم شخصیات آتی جاتی رہتی تھیں۔
القدس ملیشیا
جیمز میٹس لکھتے ہیں:”اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا تھا کہ اس بم حملے کے منصوبے کو ایرانی حکومت کے عناصر خاص طور پر القدس فورس کے سینئرممبروں نے عملی شکل دینا تھی۔ یہ گروپ ایرانی حکومت کی سرپرستی میں کام کرتا ہے۔
یہ اپنی کارروائیوں کی رپورٹ ایرانی حکومت کو پیش کرتا ہے۔
بہت سے ماہرین نے انتظامیہ کے اس جائزے پر سوال کیا کہ ایرانی حکومت اس منصوبے میں شامل ہے یا نہیں؟ ایران کی بیرون ملک قتل کی سازشوں کی طویل تاریخ کے باوجود کچھ مبصرین کو شبہ تھا کہ ملائیت کی حکومت اس طرح کے جرات مندانہ حملے کی کوشش کرے گی؟
انٹیلی جنس معلومات
جیمز میٹس نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ القدس فورس دہشت گردی کی اس سازش میں ملوث تھی ۔ میں نے یہ انٹیلی جنس رپورٹ دیکھی تھی اورہم (سی آئی اے) نے تہران کی کارروائی کی منظوری ریکارڈ کرلی تھی۔” مگر اس خوفناک بم دھماکے کی سازش ناکام ہوگئی۔
انھوں نے کہا اگر یہ بم پھٹ جاتا تو اس نے ریستوران کے باہر پیدل چلنے والوں کو اٹھا کر سڑکوں پر پھینک دیا ہوتا اور بے گناہ لوگوں کا خون بہ جاتا۔ نائن الیون کے بعد یہ ہم (امریکا) پر بدترین حملہ ہوتا۔ میں نے ایران کے نامردی کے تاثر کو محسوس کیا۔ وائٹ ہاؤس سے چند میل دور صرف ایران ہی ایسی حرکت کا خطرہ مول لے سکتا تھا۔
میٹس نے وضاحت کی کہ اس کوشش میں ناکامی ایک بنیادی غلطی کی وجہ سے ہوئی۔ یہ کہ دہشت گردوں نے منشیات ایجنسی کے ایک خفیہ ایجنٹ کو بم اسمگل کرنے کی کوشش کی تھی۔ ایران یہ غلطی نہ کرتاتو یہ ایک تباہ کن حملہ ہوتا۔ اگر یہ بم پھٹا ہوتا تو اس سے تاریخ بدل جاتی۔
ملاؤں کو بھاری نقصان پہنچانا
جیمز میٹس نے کہا امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ کی حیثیت سے میں نے سوچا کہ اس وقت عوام کی رائے پر واپس جانا ضروری ہوگا۔
میں نے سوچا کہ ہمیں زبردستی ردعمل کا اظہار کرنا پڑے گا۔ میرے فوجی آپشنوں نے اس حملے کی طاقت کو زیادہ سے زیادہ حد تک بڑھا دیا جس سے ملاؤں کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ جوابی کارروائی میں قدس فورس کے جرنیلوں کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا۔
امریکی اور عالمی رائے عامہ
میٹس نے لکھا ‘سب سے پہلے صدر کو امریکی عوام کے سامنے آنا پڑا۔ صدر نے بتایا کہ یہ حملہ کامیاب ہوتا تو اس حد تک تباہ کن ہوسکتا تھا۔ امریکی اور بین الاقوامی رائے عامہ کو اس منصوبے کی سنگینی کو سمجھنا تھا۔
عالمی جنگ
میٹیس نے وضاحت کی کہ یہ خیال اس لمحہ سے مشابہت رکھتا ہے، جس نے پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کے خلاف امریکی جذبات کو بند کر دیا۔ “مارچ 1917 میں صدر ولسن کو برطانوی انٹیلی جنس کے ذریعے جرمن وزیر خارجہ آرتھر زیمرمین نے میکسیکو کے صدر کو بھیجے گئے ٹیلی گرام کی ایک کاپی بھیجی۔ جرمنی نے ایک اتحاد کی تجویز پیش کی اگر جرمنی امریکا کو جنگ میں شامل کرتا ہے تو ریاست ٹیکساس کے بعض علاقوں ہر قبضہ کر لیا جائے۔
پلیٹ فارم کی طاقت
میٹس نے اپنی کتاب میں حوالہ دیا کہ ولسن ناراض ہوئے۔ عوام کو آگاہ کرنے اور متحرک کرنے کے لئے ٹیلی گرام پھیلائے۔ اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ جیسے صدر ولسن نے رد عمل ظاہر کیا ، صدر اوباما کو امریکی رائے عامہ رجوع کرنا چاہیے تھا، شواہد پیش کرنا اور ایرانی حکومت کی مذمت کرنا تھی


