جذباتی ذہانت یا جسے انگریزی میں اموشنل انٹیلی جنس کہتے ہیں جو اپنی اور دوسروں کی جذبات کو سمجھنے اورجذباتی حوالے سے ہم آہنگی پیدا کرنے کو جذباتی ذہانت کہتے ہیں ـ اموشنل انٹیلی جنس کو امریکی سائکالوجسٹ پیٹر سلوے اور جان ڈی میئر نے 1990 کو اپنے ایک سائینسی جریدے کے زریعے متعارف کیا اور اس پر امریکی نیورو سائینٹسٹ اور سائکالوجسٹ ڈاکٹر گولمیں نے 1995 میں ایک کتاب لکھا ـ
ڈاکٹر گولمین کے جذباتی ذہانت کے حوالے اس کتاب نے نیورولوجی اور سائیکالوجسٹ طبقے میں خاصی توجہ حاصل کی 1995 سے لے کر آج تک اس پر ہزاروں کے حساب سے کتابیں لکھی گئی ہیں اور ریسرچ پیپرز شائع کیئے جاچکے ہیں اور اس پر نیورو سائنسدان مزید ریسرچ کر رہے ہیں ـ
گولمین کے مطابق انسان جذباتی حوالے سے جتنی ذہین ہو وہ اتنی ہی اپنی اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ذہنی صحت کے حوالے سے اچھی زندگی گزار سکتی ہے جبکہ معاشرے میں بھی اپنا ایک منفرد مقام بنا سکتی ہے آئی کیو ( انٹیلی جنس کوشنٹ ) اور اے کیو(اموشنل کوشنٹ ) انسانی ذہانت کو مخلتف طریقوں سے پرکھنے کی سٹڈیز ہیں ڈاکٹر گولمین کہتے ہیں کہ آئی کیو سے زیادہ ای کیو کا اچھا ہونا اہم ہے اگر آپکی ای کیو اچھی ہے تو آپ سکول مییں کچھ مضامین جیسے ریاضی فزیکس سائیس وغیرہ میں اچھی ہو سکتی ہیں لیکن صرف آئی کیو کا اچھا ہونا آپ کی معاشرے میں کامیابی کی ضمانت ہرگز نہیں ہے معاشرے میں ایک کامیاب زندگی گزارنے کے لیے آپکی اموشنل انٹیلی جنس کا اچھا ہونا بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کی آئی کیو کا ہے ـ
اچھی بات یہ ہے کہ آئی کیو کے مقابلے ای کیو کو ذہنی ورزش اور ٹرینننگ سے بہتر کیا جا سکتا ہے بھلے ہی آپ کا آئی کیو اچھا نہ ہو لیکن آپ اپنی ای کیو کو پریکٹس اور وقت کے ساتھ بہتر بنا سکتے ہیں اور بہتر ای کیو آپ کو ذاتی معاشرتی زندگی جیسے لیڈر شپ رول اور پیپل منیجمنٹ میں کامیاب کر سکتا ہے ـ
ای کیو کو سمجھنے کے لیے اسے پانچ اجزا میں تقسیم کیا گیا ہے
جذبات کے حوالے سے ٓٓآگاہی
جذبات کو سمجنھے کے لیے پہلے ہمیں دماغ کے اس حصے جسے نیورو سائنس میں لمبک سسٹم کا نام دیا گیا ہے سمجھنا ہوگا جس میں تھیلمیس، امیگڈیلا، ہپو تھیلمیس ، ہپو کیمپس اور پری فرنٹل یا سیریبرل کارٹیکس ہیں جس کے ممجوعے کو لمبک سسٹم کا نام دیا گیا ہے اور یہ ہمارے دماغ کے گہرائی میں واقع ہیں جو کہ انسانی جذبوں اور یاداشت
کو پروسس اور کنٹرول کرتے ہیں
نیورو ساینسدانوں کے مطابق انسان میں ٹوٹل ستائیس کے قریب جذبے پائے جاتے ہیں ان میں چھ بنیادی جذبے ہیں جن میں خوشی غم، غصہ، خوف،، نفرت اور حیرت ہیں ان تمام جذبوں کو ہمارا لمبک سسٹم مختلف طریقوں سے کنٹرول کرتا
ہے لیکن کچھ طاقت ور جذبات جن کا تعلق خاص کر خوف ، غصہ یا غم سے ہے انہیں امیگڈیلا کنٹرول اور پروسس کرتا ہے ہر انسان کے دماغ میں دو امیگڈیلا ہوتے ہیں جو دماغ کے دونوں جانب یعنی دونوں سپیزرمیں واقع ہیں امیگڈیلا یونانی لفظ ہے جس کے معنی بادام کے ہیں، امیگڈیلا ان جذبات کے ساتھ ساتھ ایسے واقعوں کی یادداشت کو محفوظ رکھتا ہے اور دوبارہ ایسے واقعےسے عین پہلے انسان کو ان خطروں سے ٓآگاہ کر تا ہے
ہر انسان اور حیوان کے اندر کسی نہ کسی طرح کسی شے یا واقعے کا خوف ہوتا ہے کسی کو موت کا خوف تو کسی کو پبلک سپیکنگ کا خوف کسی کو کسی شے کے کاٹنے کا خوف ہوتا ہے اورامیگڈیلا انسان یا حیوان کے بقا کے لیے انسان کے دماغ کی الارم سسٹم ہے جو انسان اور جاندار کے بقا کے لیے انہیں خطروں سے آگاہ کرتا ہے ـ
مثال کے طور پر اگر کسی انسان کو سانپ نے ڈسا ہو اس تجربے اور اس کی یاداشت کو امیگڈیلا محفوظ کرتا ہے اور جب بھی دوبارہ کہیں سانپ کا سامنا ہو تو امیگڈیلا فعال ہوتا ہے اور آپ کو فائٹ یا فلائٹ موڈ پر لے آتا ہے جب آپ کا امیگڈیلا کسی طاقت ور جذبے کو لے کر سرگرم ہوتا ہے اور وہ دماغ کے باقی حصوں خصوصی طور پر پری فرنٹل کارٹیکس جو انسان کے سوچنے اور سمجھنے کی حس ہے اس کو مفلوج کر دیتا ہے امیگڈیلا خطرے کے یہ طاقت ور سگنلز ہیپو تھیلمیس کو بھیج دیتا ہے وہ امیگڈیلا کی میسج کو لے کر سپینل کارڈز کو بھیج دیتا جو جسم میں ضروری کیمکلز جیسے ایڈریلینز پیرپرافیین اور کارٹیسول چھوڑتا ہے اور جسم کو اسی حساب سے عمل کرنے پر آمادہ کرلیتا ہے فرض کریں اگر امیگڈیلا کے پاس خطرے کے حوالے سے محفوظ یاد داشت ہیں تو امیگڈیال ہپو تھیلمیس کو اسی حساب سے سگنلز بھیجتا ہے اور یہ ہیپو تھیلیمس اس سگنلز کو تشریح کرتا ہے اگر ہیوتھیلمیس کو لگتا ہے کہ اس خطرے سے لڑ کر نمٹا جاسکتا ہے تو جسم خون کے دباو کو ہاتھوں اور سر کی طرف پمپ کرتا ہے یہ فلائٹ کے حوالے سے ہوں تو خون کا دباو پیروں کی طرف ہوتا ہے تاکہ انسان کو بھاگنے کے لیے تیار کریں یا فریز کریں اور اسی طرح غصے کے وقت امیگڈیلا سرگرم ہوتا ہے اور آپ کے سوچنے سمجھنے کی حس کو مفلوج کردیتا اس وقت آپ ایمگیڈیلا کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں ـ
ڈینیل گولمین نے اپنی کتاب جذباتی ذہات میں اسے امیگڈیلا ہائی جیک کہا ہے گولمین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات غصے کی حالت میں جب انسان کوئی عمل کر رہا ہوتا ہے تو وہ امیگڈیلا ہائی جیکنگ کے زیر اثر ہوتا ہے اور اس کی سوچنے سمجھنے کی حس مفلوج ہوتی ہے جب چند گھنٹوں کے بعد انسان کا پری فرنٹل کارٹیکس یا استدلال کی دماغ ہے کام کرنا شروع کرتا ہے تب انسان کو اس عمل پر پھچھتا وا ہوتا ہے یا جذبات کے زیر اثر جلدبازی میں فیصلے کرتا ہو اور یہ فیصلے بعد میں ندامت کے سبب بنتے ہوں اسے ڈینیل گولمین اپنی کتاب جذباتی انٹیلی جنس میں جذباتی ذہانت کے حوالے سے کم انٹیلی جنس کہتا ہے ڈاکتر گولمین کہتا ہے کہ جذباتی ذہانت کو بڑھانے کے لیے ٓآپ کو اپنے جذبات اور اس کو ٹریگر کرنے والے محرکات اور وجوہات کو سمجھنا چاہیے جب ہم جذبات کے اس سلسلے اور اس کے اور ہماری سوچنے اور عمل پر اثر ان کے ذہنی اور جسمانی صحت پر اثر کو سمجھیں گے تب ہم اس سائیکل کو توڑ سکتے ہیں اور ان جذبات کو مثبت طریقے سے ہینڈل کر سکتے ہیں تاکہ معاشرے میں ناکامی ندامت اور آگے چل کر انگزائیٹی اور ڈپریشن جیسے ذہنی بیماری کا سبب نہ بیں ـ
جس طرح دنیا اب گلوبل ویلیج میں تبدیل ہوچکا ہے اور روز مرہ ہماری دماغ کو گیگابئٹس کے حساب سے مختلف قسم کے انفارمیشن کا سامنا ہوتا ہے جیسے کے موبائیل فون ٹی وی سوشل میڈیا کا استعمال سے لے کر گیمینگ ایپس کا ہمارے جذباتی اور ذہنی صحت پرمنفی اثر اور یہ جس طرح ہمارے جذبات کو مخلتف انداز سے مینی پولیٹ کرتے ہیں اگر ہم جذباتی حوالے سے کم ذہین ہوں تو یہ جلد ہی ذہنی بیماریوں کے ساتھ ساتھ معاشرتی برائیوں کی طرف بھی لے جاتے ہیں
جاری ہے۔۔۔۔















