کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر عرفان سعید ، جنرل سیکرٹری منظور احمد اور کابینہ کے ارکان نے شہید صحافی عبدالواحد رئیسانی کوان کی دوسری برسی کے موقع پر انہیں ان کی صحافتی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان صحافی کودو برس قبل گیارویں رمضان المبارک کو بیدردی سے قتل کیا گیا ۔
تاہم ان کے قاتل بھی دیگر صحافیوں کے قاتلوں کی طرح قانون کے شکنجے میں نہیں آئے حکومت واحد رئیسانی سمیت تمام صحافیوں کے خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے۔
شہید صحافی عبدالواحد رئیسانی کی دوسری برسی کی مناسبت سے جاری اپنے بیان میں بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے رہنمائوں نے کہا کہ عبدالواحد رئیسانی بلوچستان کی صحافت کا کم عمر ترین شہید ہے اپنے کیریئر کے آغاز میں ہی اس نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا شروع کیا، بدقسمتی سے باصلاحیت نوجوان صحافی کو دو برس قبل 11ویں رمضان المبارک کو بیدردی سے قتل کرکے شہید کردیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ پولیس کی مدعیت میں درج مقدمہ میں نامزد ملزمان میں سے ایک ملزمہ بلوچستان ہائیکورٹ سے بعداز گرفتاری ضمانت پر رہاہوکر فرار ہوگئی جبکہ ایک ملزم کوٹرائل کے بعد جرم ثابت نہ ہونے پر عدالت نے بری کیا جبکہ خاتون ملزمہ سمیت دو ملزمان تاحال مفرور ہیں اور پولیس انہیں گرفتار کرنے میں دوسال بعد بھی کامیاب نہ ہوسکی اور قاتلوں کو اب بھی انصاف کے کٹہرے میں لا کر کھڑے نہیں کیا جاسکا ۔
جو نظام انصاف کا منہ چڑا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں اب تک چالیس سے زائد صحافی پرتشدد واقعات ، ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں شہید ہوئے مگر کسی کے قاتل آج تک گرفتار نہیں ہوسکے۔
انہوں نے بلوچستان حکومت، آئی جی بلوچستان پولیس مطالبہ کیا گیا ہے کہ شہید صحافی کے قتل کیس کا نوٹس لے کر اس کیس میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور شہید کے خاندان اور صحافی برادری کو انصاف فراہم کیا جائے۔















