کابل(ہمگام نیوز) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہزاروں افراد نے شیعہ ہزارہ برادری کے سات افراد کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے صدارتی محل کی جانب جانے کی کوشش کی تو پولیس نے منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی جس میں سات افراد زخمی ہو گئے۔
صوبہ زابل میں گذشتہ اتوار کو ہزارہ برادری کے سات افراد کی لاشیں ملی تھیں۔ ان افراد کو اغوا کیا گیا تھا اور بعد میں سر قلم کر کر دیے گئے تھے۔
زابل میں طالبان کے متحارب گروپوں میں حالیے دنوں شدید جھڑپیں ہوئی ہیں تاہم شیعہ ہزارہ افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں چار مرد، دو خواتین اور ایک نو سالہ بچی شامل تھی۔
کابل میں بارش کے باوجود مظاہرین نے ہلاک ہونے والے افراد کے تابوت اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے نعری بازی کر رہے تھے کہ ’آج ہمیں مارا ہے کل یہ تمھیں مار دیں گے۔‘
اس کے علاوہ مظاہرین نے ہلاک ہونے والے افراد کی تصاویر اٹھا رکھی تھی اور اس کے ساتھ’ طالبان مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد ان درجنوں افراد میں شامل تھے جنھیں گذشتہ برس اغوا کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق افغان سکیورٹی حکام نے اس مظاہرے کی براہ راست کوریج کو روک دیا تھا۔


