لندن(ھمگام نیوز ) بلوچ آزادی پسند رہنما حیربیار مری نے اپنے تازہ ترین بیان میں ایرانی حکومت کی علاقائی جارحیت اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ تہران کے خلاف اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایران کے حالیہ حملے ایک اور خطرناک مگر سوچی سمجھی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں، جو عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں۔ اس نوعیت کے جارحانہ حملے ایک تشویشناک رجحان کو تقویت دیتے ہیں: مغرب کی جانب سے برسوں کی مفاہمانہ پالیسیوں اور ناکام سفارت کاری نے تہران کے رویے کو اعتدال پسند بنانے کے بجائے اسے مزید جری بنا دیا ہے۔

کئی دہائیوں سے ایران بلوچوں، اہوازی عربوں، آذربائیجانی ترکوں اور دیگر محکوم قومیتوں کا استحصال اور جبر کر رہا ہے۔ اب اس کی جارحیت اپنی چھینی ہوئی اور زیر قبضہ سرزمین سے باہر خلیجی ریاستوں اور آبنائے ہرمز کے غصب کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کا مقصد اپنے تسلط کو مزید وسیع کرنا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ تہران کے تخریب کارانہ رویے کے خلاف بہت پہلے ہی جرأت مندانہ موقف اختیار کرتی، بجائے اس کے کہ بار بار ایسے معاہدوں کے پیچھے چلتی رہی جو اس کے رویے میں تبدیلی لانے میں مکمل ناکام ثابت ہوئے۔ بروقت کارروائی نہ کرنے کے فیصلے نے اس چیلنج کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (MOU) پر دستخط کے بعد سے اب تک 40 بلوچوں کو لاپتہ کرکے قتل کیا جا چکا ہے۔

اگر امریکہ نے ایران کے زیر قبضہ اقوام کی مدد اور ان کے ساتھ تعاون کیا ہوتا، بجائے اس کے کہ ان محکوم قوموں کو محض اپنے دفاع کا حکم دیا جاتا، تو ملاؤں کی حکومت کے خاتمے میں یہ اقوام کہیں زیادہ کامیاب ہوتیں۔ ایرانی حکومت کو قابو میں لانے کے لیے ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، اور اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ان زیر قبضہ اقوام کو اپنی آزادی کی بحالی کے لیے حمایت اور بااختیار بنایا ج

ائے۔