ہمگام نیوز | یکم ستمبر 2026

واشنگٹن (ہمگام نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اس وقت آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر بڑے پیمانے اور انتہائی طاقتور حملے کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں بچھانے کی مبینہ کوشش اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے میزائل حملے کے جواب میں کی جا رہی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگیں مکمل طور پر صاف کر دی گئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق حالیہ کارروائیوں کا ایک بنیادی مقصد ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ان یونٹس اور تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے جو امریکی دعوے کے مطابق آبنائے میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔

امریکی حملوں کا یہ نیا مرحلہ اتوار کو آبنائے ہرمز کے لارک جزیرے پر ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی کا تسلسل ہے۔ امریکی حملے کے جواب میں ایران نے اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، تاہم اردنی حکام کے مطابق آٹھ میزائل فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روک لیے گئے۔

امریکی حکام کے مطابق منگل کو شروع ہونے والی تازہ فضائی کارروائیوں میں جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹس میں بندر عباس، جاسک، چابہار، کنارک، میناب، سیریک اور قشم کے علاقوں میں امریکی کارروائیوں کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم تمام اہداف اور نقصانات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے امریکی حملوں کا جواب دیا تو امریکہ دوبارہ حملہ کرے گا، اور اس مرتبہ کارروائی زیادہ طاقت اور شدت کے ساتھ کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ کارروائی ابھی سب سے بڑا امریکی حملہ نہیں ہے اور ایک مزید بڑی کارروائی بعد میں متوقع ہے۔

یہ تازہ حملے ایک ماہ کے وقفے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیوں کی دوبارہ شدت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

دریں اثنا، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی اور بحری تجارت پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق آج آبنائے ہرمز کے قریب سعودی تیل لے جانے والے دو سپر ٹینکرز نامعلوم پروجیکٹائلز کی زد میں آئے، جس سے خطے میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ پر مزید خدشات

پیدا ہوئے ہیں۔