زاہدان(ہمگام نیوز ) یکم ستمبر 2026: ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مرکزی زاہدان جیل میں ایک بلوچ قیدی کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔ قیدی کو 2023 میں چابہار سے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں ایک مقدمے میں ’’چوری اور جنسی زیادتی‘‘ کے الزامات کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق پھانسی پانے والے قیدی کی شناخت 26 سالہ سینا علی پور ولد حسن علی پور کے نام سے ہوئی ہے۔ جو کہ لاشار کے علاقے بند کا رہائشی اور چابہار میں مقیم تھا۔

ذرائع کے مطابق سینا علی پور کو 2023 میں زاہدان میں اپنی فوجی سروس انجام دینے کے دوران چھٹی پر چابہار آنے پر فوجی اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد ان کے خلاف عدالتی مقدمہ قائم کیا گیا اور چابہار کی فوجداری عدالت نے انہیں ’’چوری اور جنسی زیادتی‘‘ کے الزامات میں سزائے موت سنائی۔

خاندانی ذرائع کے مطابق سینا علی پور نے اپنے خلاف عائد الزامات کو مسترد کر دیا تھا اور مقدمے میں لگائے گئے الزامات اور عدالتی کارروائی پر اعتراض کیا تھا۔ تاہم ان الزامات سے متعلق عدالتی دستاویزات اور شواہد کی آزادانہ طور پر تصدیق حال وش کے لیے ممکن نہیں ہو سکی۔

رپورٹ کے مطابق سینا علی پور کو تقریباً 40 روز قبل چابہار جیل سے مرکزی زاہدان جیل منتقل کیا گیا تھا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ان کی منتقلی کا مقصد سزائے موت پر عمل درآمد تھا۔

سینا علی پور کی سزائے موت پر یکم ستمبر 2026 کی صبح مرکزی زاہدان جیل میں عمل درآمد کیا گیا۔ تاہم مقدمے کی مزید تفصیلات اور عدالتی کارروائی سے متعلق مکمل معلومات تاحال دستیاب نہیں ہیں۔

ذرائع کے مطابق سینا علی پور کے مقدمے اور عدالتی کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات کی تحقیقات جاری ہیں اور قابلِ تصدیق معلومات موصول ہونے کی صورت میں مزید تفصیلات شائع کی جائیں گی۔