اصفہان (ھمگام نیوز) منگل، 28 جولائی 2026ء کی صبح، اصفہان کے علیخانی چوک میں دو سیاسی قیدیوں— ابوالفضل سپاہی بادجانی (ولد علی محمد) اور امیر حسین صفری حسین آبادی (ولد ناصر)— کی سزائے موت پر اعلانیہ (عوام کے سامنے) عمل درآمد کر دیا گیا۔ اس موقع پر وہاں موجود متعدد شہریوں کی جانب سے شدید احتجاج، سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کی موجودگی اور مظاہرین کے خلاف کارروائی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے، جبکہ موقع پر فائرنگ کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔
عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ادارے “میزان” نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دونوں افراد 2025ء کے ملک گیر احتجاج کے دوران تیز دھار دھات کے استعمال سے ایک پولیس اہلکار پر حملے میں ملوث تھے۔ تاہم، ابھی تک ان دعووں کی تصدیق کے لیے کوئی آزادانہ ثبوت عام طور پر پیش نہیں کیے گئے۔
اس کے برعکس، انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا ہے کہ ان دونوں قیدیوں کو گرفتاری کے بعد شدید سیکیورٹی دباؤ، جسمانی و نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنا کر جبری اعترافات لیے گئے تھے۔
مزید برآں، ان کے اہل خانہ نے پہلے بھی آزاد وکلاء تک رسائی میں رکاوٹ، دفاع کے حق کی خلاف ورزی اور غیر منصفانہ عدالتی کارروائی پر احتجاج کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق، سزائے موت پر عمل درآمد کے دوران شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے علانیہ پھانسی کے خلاف آواز بلند کی، لیکن سیکیورٹی فورسز نے مداخلت کر کے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔
اسی طرح فورسز کی جانب سے کچھ معترضین پر حملے اور فائرنگ کی اطلاعات بھی ہیں، تاہم سرکاری حکام نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی موقف پیش نہیں کیا ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں نے اس معاملے میں عدالتی عمل کی شفافیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی دستاویزات کی اشاعت، جبری اعترافات اور تشدد کے ادعاؤں کی آزادانہ تحقیقات اور منصفانہ ٹرائل کے عالمی اصولوں کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔ علانیہ پھانسیوں اور پرامن مظاہرین پر تشدد کے واقعات نے ایک بار پھر ایران میں انسانی حقوق، منصفانہ محاکمے کے حق اور پرامن اجتماعات کی آزادی سے متعلق شدید خدشات کو ج
نم دیا ہے۔















