نئی دہلی(ہمگام نیوز ) برکس کے 11 رکن ممالک نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
نئی دہلی میں ہونے والے برکس اجلاس کے پہلے روز جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ اعلامیے میں شہریوں کے تحفظ، ممالک کی خودمختاری اور عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بحری راستوں کے محفوظ رہنے پر بھی زور دیا گیا۔
برکس ممالک نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں موجود پُرامن جوہری تنصیبات پر حملوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ایسے حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ اعلامیے میں جوہری تنصیبات کی حفاظت کو جنگ کے دوران بھی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
اعلامیے میں غزہ، لبنان، سوڈان اور شام میں بھی جنگ بندی اور انسانی امداد کی رسائی پر زور دیا گیا۔ یہ اتفاق رائے اس لحاظ سے اہم ہے کہ مئی میں برکس وزرائے خارجہ مشرق وسطیٰ کے معاملے پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام رہے تھے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے بھی برکس پر زور دیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور متعلقہ فریقوں کو سیاسی حل اور مستقل و جامع جنگ بندی کی کوشش کرنی چاہیے۔
ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک نے مشترکہ اعلامیے کی حمایت کی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ابوظبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید سے بھی ملاقات کی، جو جنگ شروع ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کی اہم ملاقات قرار دی جارہی ہے۔


