اصفہان(ہمگام نیوز ) 9 جون 2026 ۔ رپورٹ کے مطابق آج منگل کے روز سحر کے وقت دستگرد جیل میں ایک بلوچ قیدی کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا جسے اس سے قبل منشیات سے متعلق الزامات میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
پھانسی پانے والے قیدی کی شناخت «رشید کمبرزهی»، ولد عبدالکریم، شادی شدہ اور چھ بچوں کے والد کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ زاہدان کے علاقے نصرت آباد کی یونین کونسل کے تحت واقع گاؤں چاہ زرد کا رہائشی تھا۔
ذرائع کے مطابق رشید کمبرزهی کو 2018 میں اصفہان میں قابض ایرانی سکیورٹی فورسز نے منشیات سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں اصفہان کی انقلاب عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔ عملدرآمد سے قبل انہیں اپنے قریبی اہل خانہ کے ساتھ آخری ملاقات کی اجازت دی گئی۔
سال 2025 کے دوران مرتب کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے 27 مختلف جیلوں میں کم از کم 137 بلوچ قیدیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا۔ ان میں سب سے زیادہ 34 واقعات زاہدان جیل میں رپورٹ ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق:
94 افراد (تقریباً 68.6 فیصد) منشیات سے متعلق مقدمات میں
36 افراد (تقریباً 26.3 فیصد) قتل کے مقدمات میں
4 افراد (تقریباً 2.9 فیصد) سیاسی و عقیدتی الزامات میں
2 افراد (تقریباً 1.5 فیصد) زنا بالجبر کے الزامات میں
1 فرد (تقریباً 0.7 فیصد) نامعلوم الزام میں
سزائے موت کا شکار ہوئے۔















