لندن(ہمگام نیوز) امریکا اور ایران کے درمیان رات بھر ہونے والے تازہ فوجی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے اور تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جارہی ہے۔

رائٹرز کے مطابق ابتدائی کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 75 سینٹ یا 0.8 فیصد اضافے کے بعد 95.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ WTI خام تیل کی قیمت 44 سینٹ یا 0.5 فیصد اضافے کے بعد 90.66 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ گزشتہ روز ہونے والی غیر معمولی تیزی کے بعد بھی جاری رہا۔ منگل کو دونوں اہم عالمی خام تیل بینچ مارکس میں 4 ڈالر سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔

برینٹ خام تیل میں ہونے والا یہ اضافہ 24 جولائی کے بعد سب سے بڑا یومیہ اضافہ قرار دیا گیا، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت میں بھی 23 جولائی کے بعد سب سے بڑی یومیہ تیزی دیکھی گئی۔

امریکا اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کے تبادلے نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی جلد کم ہونے کی امیدوں کو متاثر کیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر جنگ مزید پھیلتی ہے تو خطے سے تیل کی پیداوار اور ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔

مشرق وسطیٰ عالمی توانائی کی منڈی کے لیے انتہائی اہم خطہ ہے، جہاں کسی بھی بڑے فوجی تنازع یا بحری راستوں میں رکاوٹ کا براہ راست اثر تیل کی عالمی سپلائی اور قیمتوں پر پڑتا ہے۔

حالیہ کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں خاص طور پر سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھا جاسکتا ہے۔