واشنگٹن (ہمگام نیوز ) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف بدستور زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کی مہم پر عمل پیرا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسٹیون نوشین نے یہ وضاحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف پابندیوں میں نرمی سے متعلق بیان کے بعد کی ہے۔
مسٹر نوشین نے سی این بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔
انھوں نے وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کی رخصتی کے بعد کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی قومی سلامتی کی باقی ٹیم ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔اس کے موثر ہونے سے متعلق تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف پابندیاں موثر رہی ہیں۔ان کے ذریعے اس پر دباؤ ڈالنے اور اس کی قیادت کو صدر ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ ’’ہم نے ان کی رقوم منقطع کردی ہیں اور اسی وجہ سے وہ مذاکرات کی میز پر واپس آ سکتے ہیں اور وہ آرہے ہیں۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی ایران کے بارے میں حکمتِ عملی چین سے تجارتی مذاکرات کی طرح ہی ہے۔
مسٹر اسٹیون نوشین نے کہا کہ ’’اگر صدر ٹرمپ اپنے کہنے کے مطابق درست ڈیل میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر ہم ایران سے مذاکرات کریں گے۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر ہم زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کے لیے مہم جاری رکھیں گے۔‘‘
صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے تیسرے مشیر جان بولٹن ایران کے خلاف سخت گیر خارجہ پالیسی کے خالق تھے اور ان کا یہ موقف تھا کہ زیادہ دباؤ ڈال کر ہی ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے تاکہ اس سے اس کے جوہری پروگرام کے معاملے پر ایک نئی ڈیل کی جاسکے۔
لیکن جان بولٹن نے منگل کو اچانک اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے جبکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جان بولٹن کوبرطرف کیا ہے اور انھیں ان کی بہت سی تجاویز سے اتفاق نہیں تھا۔
ان کی رخصتی کے باوجود ایران کا کہنا ہے کہ وہ پابندیوں کے خاتمے تک امریکہ سے کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔


