ہمگام نیوز | 1 ستمبر 2026

سنندج /زاہدان (ہمگام نیوز) انسانی حقوق کی تنظیم ہه‌نگاو کے مرکز برائے شماریات و دستاویزات کے مطابق، اگست 2026 کے دوران ایران بھر میں ایرانی سکیورٹی اداروں نے کم از کم 117 شہریوں کو گرفتار یا مبینہ طور پر حراست میں لے لیا۔ تنظیم کے مطابق ان تمام افراد کی شناخت مکمل طور پر اس کے ریکارڈ میں درج کی گئی ہے۔

ہه‌نگاو کی رپورٹ کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 75 کرد، 20 فارسی، 6 بلوچ، 5 ترک، 4 عرب، 3 لر، 2 گیلک و مازنی شہری شامل ہیں، جبکہ 2 افراد کی نسلی شناخت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ 20 خواتین کارکنوں، دو کم عمر بچوں، 75 کرد شہریوں، 14 بہائی شہریوں اور 6 بلوچ شہریوں کو ایرانی سکیورٹی اداروں نے گرفتار یا مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتا کیا۔ سب سے زیادہ گرفتاریاں مغربی آذربائیجان کے صوبے، جس کا مرکز ارومیہ ہے، میں ریکارڈ کی گئیں۔

علاقوں کے اعتبار سے گرفتاریاں

ہه‌نگاو کے مطابق اگست 2026 میں سب سے زیادہ گرفتاریاں درج ذیل صوبوں میں ہوئیں:

مغربی آذربائیجان، ارومیہ: 45 افراد، تمام کرد شہری

کردستان، سنندج: 20 افراد

ایلام: 8 افراد، تمام کرد شہری

خوزستان: 6 افراد، جن میں 4 عرب، ایک لر اور ایک شہری کی نسلی شناخت غیرمصدقہ ہے

مازندران: 6 افراد، جن میں ایک مازنی اور 5 فارسی شہری شامل ہیں

البرز، بلوچستان اور مشرقی آذربائیجان: ہر صوبے میں 5، 5 گرفتاریاں

اصفہان اور تہران: ہر صوبے میں 3، 3 گرفتاریاں

خراسان رضوی: 3 افراد، جن میں ایک کرد اور دو فارسی شہری شامل ہیں

خراسان جنوبی، لرستان، کرمانشاہ، یزد، گیلان، قم اور کہگیلویہ و بویراحمد: ہر صوبے میں ایک گرفتاری

ہرمزگان: ایک گرفتاری، جس میں ایک بلوچ شہری شامل ہے

کرد اور بلوچ شہریوں کی گرفتاریاں

ہه‌نگاو کے مطابق اگست کے دوران گرفتار کیے گئے 117 افراد میں سے 75 کرد شہری تھے، جو مجموعی تعداد کا تقریباً 64 فیصد بنتے ہیں۔

نسلی و قومی شناخت کے اعتبار سے گرفتار افراد کی تفصیل یہ ہے:

کرد شہری: 75

فارسی شہری: 20

بلوچ شہری: 6

ترک شہری: 5

عرب شہری: 4

لر شہری: 3

گیلک اور مازنی شہری: 2

نسلی شناخت کی تصدیق نہ ہونے والے: 2

مذہبی اقلیتوں کے خلاف گرفتاریاں

رپورٹ کے مطابق اگست 2026 میں ایران میں مذہبی اقلیتوں اور مذہبی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اس دوران کم از کم 17 مذہبی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں 14 بہائی، 2 سنی اور ایک شیعہ شامل ہیں۔

ان گرفتار افراد میں کم از کم 7 بہائی خواتین بھی شامل ہیں۔

بہائی شہری:

ثریا منوچہرزادہ، ارسلان یزدانی، بابک زینلی، صہبا طائفی، فواد طائفی، شروین شبرخ، علی باقرکاشی، مارال روشنی، نگار بدیعی، شیما سنائی، فاخِرہ زاہدی، ایمان رشیدی، صریر موقن اور الہام خلص۔

سنی شہری:

سید لطیف صابری اور میلاد حیدری۔

شیعہ شہری:

محمدباقر خرازی۔

اگست میں دو کم عمر بچے بھی گرفتار

ہه‌نگاو کے مطابق اگست 2026 کے دوران ایرانی سکیورٹی اداروں نے کم از کم دو 18 سال سے کم عمر بچوں کو بھی گرفتار کیا۔ یہ تعداد ماہانہ گرفتار شدگان کا تقریباً 1.7 فیصد بنتی ہے۔

گرفتار کیے گئے دونوں بچے بالترتیب کرد اور بلوچ شہری تھے:

1. کوردیا حمیدی، 16 سال، دیواندرہ

2. ستائش بامری، 17 سال، ایرانشہر

20 خواتین کارکن گرفتار

رپورٹ کے مطابق اگست 2026 میں کم از کم 20 خواتین کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، جو مجموعی گرفتاریوں کا تقریباً 17 فیصد ہیں۔

گرفتار خواتین میں کم از کم 7 بہائی اور 8 کرد خواتین شامل ہیں۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

ساری: ثریا منوچہرزادہ، مارال روشنی، نگار بدیعی، شیما سنائی، فاخِرہ زاہدی

مهاباد: شیرین مسعودی، سیران عربی

اصفہان: صریر موقن، الہام خلص

ایرانشہر: شیما بامری، صائمہ بامری

ارومیہ: بفرین احمدوش

چالدران: زہرا پیردہقان

ماکو: پروین راسق قزلباش

بندرعباس: لیلا معلمی

پیرانشہر: نازنین حسین پور

دیواندرہ: مریم مرادیان

آبدانان: راضیہ ہاشمی

دزفول: نجمی سادات بنیان

مشہد: مریم تجنگی

اساتذہ اور طلبہ بھی گرفتاریوں کی زد میں

اگست 2026 کے دوران کم از کم ایک استاد اور ایک طالب علم کی گرفتاری بھی ریکارڈ کی گئی۔

مهدی سعدوندی، استاد، اصفہان

شہریار شمس، طالب علم، تہران

ہه‌نگاو کے مطابق اس ماہ میڈیا کارکنوں کی گرفتاری کا کوئی معاملہ ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

مصنفین اور فنکار بھی گرفتار

اگست 2026 میں کم از کم ایک مصنف اور دو فنکاروں کو بھی ایرانی سکیورٹی اداروں نے گرفتار کیا۔

مصنف:

امین سوری، خرم آباد

فنکار:

امین ناصری، ایلام

آرمین نورانی، تہران

ہه‌نگاو: اعداد و شمار صرف تصدیق شدہ کیسز پر مشتمل ہیں

ہه‌نگاو کا کہنا ہے کہ مذکورہ 117 گرفتاریوں کے تمام کیسز اس کے مرکز برائے شماریات و دستاویزات میں درج ہیں اور تمام افراد کی مکمل شناخت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

تنظیم کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف ان واقعات پر مشتمل ہیں جن میں ہه‌نگاو کے لیے گرفتار افراد کی مکمل شناخت کی تصدیق ممکن ہوئی۔ تنظیم نے ان اعداد و شمار کو ماخذ کا حوالہ دیتے ہوئے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔

ماخذ: ہه‌نگاو، مرکز برائے شماریات و دستاویزات | رپورٹ کی تاریخ: 1 ستمبر 2026