Homeخبریںبلوچستان میں یرغمال سازی کے بڑھتے واقعات: مولانا عبدالحمید کی حکام کی...

بلوچستان میں یرغمال سازی کے بڑھتے واقعات: مولانا عبدالحمید کی حکام کی بے حسی پر شدید تنقید

زاہدان (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق مولانا عبدالحمید اسماعیل زئی نے جمعہ، 31 جولائی 2026ء کو خطبہ جمعہ کے دوران بلوچستان میں یرغمال سازی اور بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیکیورٹی اور انتظامی اداروں کی کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

خطبہ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے علاقے کی سیکیورٹی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: *”افسوسناک بات یہ ہے کہ علاقے اور شہر کا امن و امان تباہ ہو چکا ہے۔

 جن اہلکاروں اور حکام کی ذمہ داری لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا تھی، انہوں نے شہر کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے اور وہ اپنی ذمہ داریوں کو اس طرح انجام نہیں دے رہے جیسے دینا چاہیے تھا۔

 ہر حکومت اور ریاست کا بنیادی فرض اپنے شہریوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔”*

انہوں نے مزید کہا: *”یہ بات واقعی سوچنے اور غور کرنے کی ہے کہ دن دہاڑے متعدد افراد کو اغوا کر کے تاوان مانگا جاتا ہے۔

 یہ کون لوگ ہیں جو شہریوں کو یرغمال بنا رہے ہیں؟ پولیس اور سیکیورٹی ادارے کہاں ہیں؟ عام عوام کو ان واقعات کے پیچھے کسی اندرونی گٹھ جوڑ اور سازش کا شبہ ہو رہا ہے۔”*

بلوچ عالم دین نے حالات کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ *”اب تو پانی سر سے گزر چکا ہے۔ پہلے اگر صرف سرمایہ داروں کو اغوا کیا جاتا تھا تو اب عام آمدنی والے افراد کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایک اسی (80) سالہ بزرگ کو یرغمال بنا لیا گیا ہے اور ان کا خاندان مہینوں سے ان کی خیر خبر سے محروم ہے۔

 اگر سیکیورٹی اداروں میں واقعی عزم اور ارادہ ہو تو ان کے پاس موجود جدید وسائل کے ذریعے ان اغوا کاروں کی نشاندہی اور گرفتاری کوئی مشکل کام نہیں ہے۔”*

عوام کے کردار پر زور دیتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے تجاویز پیش کیں کہ *”اگر انتظامیہ سے کوئی کام نہیں ہو پا رہا تو وہ عوام کو خود آگے آنے کی اجازت دیں تاکہ وہ اغوا کاری کے ان واقعات کو روک سکیں اور اپنی سیکیورٹی کا انتظام خود سنبھالیں۔

 جس طرح انقلاب کے ابتدائی ایام میں عوام نے اپنے محلو ں کی حفاظت کی تھی، وہ آج بھی یہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ لاٹھیوں یا ہاتھوں سے اغوا کاروں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا، اس لیے عوام کو لائسنس یافتہ اسلحہ فراہم کیا جائے تاکہ وہ ڈاکوؤں اور یرغمال بنانے والوں سے اپنا دفاع کر سکیں۔”*

واضح رہے کہ حالیہ برسوں کے دوران بلوچستان میں یرغمال سازی اور تاوان کے لیے اغوا کے واقعات میں اضافہ شہریوں کے لیے ایک انتہائی شدید تشویشناک مسئلہ بن چکا ہے۔ ان واقعات کے تسلسل اور مغویوں کے اہل خانہ کی پریشانی کے باعث ذمہ دار اداروں سے سیکیورٹی کی بہتری کے لیے مؤثر، شفاف اور جوابدہ اقدامات کا مسلسل مطالب

ہ کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز