Oplus_16908288

کوئٹہ (ھمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی ہمشیرہ نادیہ بلوچ نے زیرِ حراست بی وائی سی رہنماؤں کے خلاف جاری عدالتی کارروائی کے طریقۂ کار کو مسترد کرتے ہوئے شفاف ٹرائل کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے بیان میں نادیہ بلوچ نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے ملزمان کی رضامندی کے بغیر اور کسی باقاعدہ وکیل نامے کے بغیر وکلاء مقرر کیے گئے ہیں، جن پر نہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور نہ ہی دیگر زیرِ حراست افراد نے دستخط کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان اور ان کی منتخب قانونی ٹیم متعدد بار اس انتظام پر اعتراض کر چکی ہے اور مقرر کردہ وکلاء کو اپنا نمائندہ تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

نادیہ بلوچ کا کہنا تھا کہ منصفانہ ٹرائل کا حق قانونی نمائندگی کا بنیادی حصہ ہے اور وکیل کو ملزم کی ہدایات اور باخبر رضامندی کے مطابق کام کرنا چاہیے، تاہم موجودہ مقدمے میں کارروائی زیرِ حراست افراد کی خواہشات کے برعکس جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر زیرِ حراست رہنما کئی دنوں سے اس عمل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جسے وہ “بے چہرہ اور غیر منصفانہ مقدمہ” قرار دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ریاست کی جانب سے مقرر کردہ وکلاء کارروائی میں نمائندگی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر ایسے حالات میں کوئی فیصلہ یا سزا سنائی جاتی ہے تو اس کی ذمہ داری متعلقہ حکام کے ساتھ ساتھ ان وکلاء پر بھی عائد ہوگی جو اعتراضات کے باوجود نمائندگی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نادیہ بلوچ نے سپریم کورٹ آف پاکستان اور بلوچستان ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے زیرِ حراست افراد کے منصفانہ ٹرائل کے حق کو یقینی بنائیں، ان کے منتخب کردہ قانونی نمائندوں کو تسلیم کریں، آزاد وکلاء تک رسائی فراہم کریں اور عدالتی کارروائی کو آئینی و انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق یقینی بنائیں۔