Homeخبریںریاست بلوچوں کو یہ باور کرا رہی ہے کہ ان کے وجود...

ریاست بلوچوں کو یہ باور کرا رہی ہے کہ ان کے وجود کو خطرہ ہے، سابق چیئرمین بساک

شال (ہمگام نیوز): بلوچ اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی (بساک) کے سابق چیئرمین شبیر بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کراچی میں آئے روز چھاپے، جبری گمشدگیاں، فیک انکاؤنٹرز، گھروں کی چادر و چار دیواری کی پامالی اور خواتین و بچوں سمیت عام شہریوں پر ریاستی تشدد محض بلوچ دشمنی کا اظہار نہیں بلکہ بلوچ عوام کو اجتماعی طور پر دبانے، ان کی سیاسی و سماجی زندگی کو مفلوج کرنے اور بلوچ نسل کشی کی ایک سنگین شکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں بلوچ شہری آج خوف، عدم تحفظ اور گھٹن زدہ ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ریاست بلوچوں کو یہ تاثر دے رہی ہے کہ ان کا وجود ریاست کے لیے خطرے کا باعث ہے، اسی لیے بلوچوں کے خلاف ہر جگہ نسلی تعصب، جبری طور پر زمین سے بے دخل کرنے اور نسل کشی کی پالیسی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ریاست کہیں بھی بلوچوں کو ان کی یکساں شناخت کی بنیاد پر برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

شبیر بلوچ نے کہا کہ ایک طویل عرصے سے جاری ظلم و جبر کے تسلسل کے باعث اب ریاست کے لیے بلوچ عوام ناقابلِ برداشت بنا دیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے کراچی میں آباد بلوچ عوام کو ریاستی اداروں کے ہاتھوں جبر، گرفتاریوں، گمشدگیوں اور مسلسل ہراسانی کا سامنا رہا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں صورتحال نے ایک خطرناک حد تک شدت اختیار کرلی ہے۔

ان کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رات کا کوئی پہر ایسا نہیں گزرتا جب کسی بلوچ بستی میں چھاپے، گرفتاری یا جبری گمشدگی کی خبر سامنے نہ آتی ہو۔ صرف دو ہفتوں کے دوران درجنوں نوجوانوں کے جبری لاپتہ کیے جانے اور بلوچ آبادیوں میں مسلسل چھاپہ مار کارروائیوں کی اطلاعات نے خوف و ہراس کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان جبری گمشدگان میں ماڑی پور سے معذور اللہ بخش بلوچ، عامر، عزیز اور صابر سمیت آٹھ سے زائد نوجوان شامل ہیں، جبکہ کراچی کے دیگر علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں جبری گمشدگیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

سابق چیئرمین بساک نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کو معمول بنا دینا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔

شبیر بلوچ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ کراچی میں نام نہاد ’’کاؤنٹر ٹیررازم‘‘ کے نام پر بلوچ عوام کو اجتماعی طور پر تشدد کا نشانہ بنانا ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ ماڑی پور، لیاری، گلشن اقبال، گلشن جوہر، ملیر، کٹور اور دیگر بلوچ آبادیوں میں حالیہ چھاپہ مار کارروائیاں، گرفتاریاں، تشدد اور جبری گمشدگیاں تشویشناک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ نام نہاد ’’دانشوروں‘‘ اور ’’انسانی حقوق‘‘ کے دعویدار حلقوں کی خاموشی مسلسل بڑھتے ہوئے اس جبر کو معمول بنانے میں مدد دے رہی ہے۔ ان کے بقول ظلم کے سامنے خاموشی غیر جانبدار ہونا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت، خوف اور جبر کسی قوم کے سیاسی شعور کو ختم نہیں کرسکتے۔ آئے روز عام بلوچ عوام کو فیک انکاؤنٹرز، جبری گمشدگیوں اور تشدد کے ذریعے کچلنا ایک بنیادی اور اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ بلوچ عوام کو ان حالات میں اب کیا کرنا چاہیے؟

شبیر بلوچ نے کہا کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنانا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست خود بلوچ عوام کو تشدد کی جانب مائل کر رہی ہے۔ ان کے مطابق جتنا زیادہ بلوچ عوام پر ظلم کیا جائے گا، اتنی ہی شدت کے ساتھ وہ ریاست کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے، کیونکہ جبر کا راستہ کبھی پائیدار حل نہیں ہوتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جتنا زیادہ کسی قوم کو دبایا جائے گا، اتنا ہی اس کے اندر اپنی شناخت اور وجود کے لیے آواز بلند کرنے کا شعور مضبوط ہوگا۔ بلوچ عوام کو طاقت کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش ماضی کے تلخ تجربات کو دہرانے کے مترادف ہے، جن سے ریاست کو سبق سیکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز