زاہدان(ھمگام نیوز) بلوچ دینی طالب علم کو زاہدان جاتے ہوئے قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جبکہ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود اس کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، آج 24 جون 2026 کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق بلوچ طالب علم حافظ الیاس قدارنجو (رودینی) کو 18 جون 2026 کو سرخس سے زاہدان جاتے ہوئے تربت حیدریہ کے علاقے کامہ میں قائم ایک چیک پوسٹ پر وزارتِ اطلاعات کے اہلکاروں نے گرفتار کر لیا تھا۔
گرفتار ہونے والے طالب علم کی شناخت 25 سالہ حافظ الیاس قدارنجو (رودینی) کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ شادی شدہ ہیں، مرحوم عبدالرشید کے فرزند اور صوبہ خراسان رضوی کے ضلع سرخس کے گاؤں قوش سربزی کے رہائشی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حافظ الیاس زاہدان میں واقع جامعہ دارالعلوم مسجد مکی جا رہے تھے کہ تربت حیدریہ کے محور پر قائم کامہ چیک پوسٹ پر وزارتِ اطلاعات کے اہلکاروں نے انہیں حراست میں لے لیا۔
ذرائع کے مطابق گرفتاری کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا اور اب تک ان کی موجودہ حالت، مقامِ حراست یا قانونی صورتحال کے بارے میں اہل خانہ کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ اطلاعات کے اہلکاروں نے اہل خانہ سے رابطہ کرکے بتایا کہ حافظ الیاس کی گرفتاری کی وجہ “زاہدان کی مسجد مکی میں تعلیم حاصل کرنا اور وہاں موجودگی” ہے، تاہم اب تک ان کے خلاف کسی باضابطہ الزام یا مقدمے کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران بلوچستان میں کم از کم 978 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں 394 افراد ایسے تھے جو شناختی دستاویزات یا قومی شناختی کارڈ سے محروم تھے۔
اسی عرصے میں 19 اجتماعی گرفتاریوں کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے، جن میں ایک سے زائد افراد کو بیک وقت حراست میں لیا گیا، جبکہ 12 واقعات ایسے تھے جن میں ایک ہی کارروائی کے دوران پانچ سے زیادہ افراد گرفتار کیے گئے۔
انسانی حقوق کے حلقوں نے زیرِ حراست افراد کے بارے میں معلومات کی عدم فراہمی اور اہل خانہ کو طویل عرصے تک بے خبری میں رکھنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف قانونی عمل اور فوری معلومات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔


