سوراب(ہمگام نیوز) قابض پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ، آئی ایس پی آر، نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع سوراب میں شدت پسند گاڑی میں نصب کرنے کے لیے دھماکہ خیز مواد تیار کر رہے تھے کہ وہ قبل از وقت پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں آٹھ شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے دعوے کے مطابق وہاں موجود دیگر بارودی مواد بھی اس دھماکے کی زد میں آ گیا، جس کے نتیجے میں مزید دھماکے ہوئے اور اس مقام کے قریب رہائش پذیر تین شہری بھی ہلاک ہو گئے۔
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا دعویٰ ہے کہ فوری ردِعمل دیتے ہوئے سکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس موقع پر پہنچ گئیں اور ذمہ دار عناصر اور سہولت کاروں کا سراغ لگانے کے لیے ایک جامع مشترکہ کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے فرار ہونے والے شدت پسندوں کی نقل و حرکت کا پتہ چلایا اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے مزید 10 کو ہلاک کر دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، اس واقعے میں اب تک مجموعی طور پر 18 شدت پسند مارے جا چکے ہیں، تاہم فائرنگ کے تبادلے میں دو فوجی زخمی بھی ہوئے۔
جبکہ آئی ایس پی آر کے دعوے کے برعکس، متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ رات کو پاکستانی فورسز کے ڈرون حملے سے ان کے گھر تباہ، رشتہ دار جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
پاکستانی حملے کے بعد مقامی افراد اور امدادی ٹیموں نے متاثرین کو شمار کر کے فہرست مرتب کر لی ہے، تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ اب تک کئی لاشیں فوج کی تحویل میں ہیں۔
ابتدائی اور دستیاب فہرست میں 20 سے زائد افراد شامل ہیں، جن میں سے معمر خاتون مراد بانو زوجہ رسول بخش کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ دیگر افراد شدید زخمی ہیں۔
زخمیوں اور جاں بحق افراد میں بچے بھی شامل ہیں، جن میں ایک سالہ الہیر، 2 سالہ فاظمہ اور ضیاء الرحمن، 4 سالہ سعدیہ اور حبیبہ، 5 سالہ رابعہ اور 12 سالہ عاصم شامل ہیں۔
زخمیوں میں زہرہ بنت عبدالعزیز، شاہ سارہ، صابیہ اور ہاجرہ سمیت دیگر خواتین اور مرد شامل ہیں۔
واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 20 سے زائد بتائی جا رہی ہے، تاہم اب تک کئی لاشیں فوج کی تحویل میں ہیں۔
دوسری طرف، واقعے کے خلاف کراچی، کوئٹہ شاہراہ پر سوراب کے مقام پر احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین نے بھی آئی ایس پی آر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے ا
سے جھوٹ قرار دیا ہے۔


