طرابلس(ہمگام نیوز ) لیبیا کے مغربی شہر زاوِیہ میں ڈرون حملے کے نتیجے میں بجلی کے ایک اہم سب اسٹیشن میں شدید آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث تنصیب مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور شہر کے جنوبی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

لیبیا کی سرکاری جنرل الیکٹریسٹی کمپنی کے مطابق بدھ کے روز ہونے والے ڈرون حملے میں زاوِیہ کے ایک بجلی کے سب اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے بعد تنصیب میں زوردار آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا سب اسٹیشن جل کر تباہ ہوگیا۔

زاوِیہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے تقریباً 47 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے اور اس کی آبادی تقریباً ڈھائی لاکھ ہے۔ شہر ملک کے اہم ترین توانائی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں لیبیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری، ایک اہم تیل برآمدی ٹرمینل اور بجلی گھر موجود ہیں۔

حالیہ دنوں میں زاوِیہ میں تیل اور بجلی کی تنصیبات پر ڈرون حملوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ پیر کے روز شہر کی آئل ریفائنری میں ایندھن سے بھرے ایک ٹینک کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی اور فائر فائٹرز کو آگ پر قابو پانے میں 15 گھنٹے سے زیادہ وقت لگا۔

سرکاری نیشنل آئل کارپوریشن کے مطابق ریفائنری کو منگل اور اس سے قبل ہفتے کے اختتام پر بھی بار بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح منگل کے روز شہر کے بجلی گھر پر بھی دو ڈرون حملے ہوئے۔ ایک ڈرون نے فائر فائٹنگ سسٹم کو نقصان پہنچایا جبکہ دوسرا مرکزی ایندھن ذخیرہ کرنے کی جگہ کے قریب گرا، جس سے آگ بھڑک اٹھی۔

تاحال کسی گروہ نے ان ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

زاوِیہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکی کمپنی جنرل الیکٹرک نے بھی اپنے عملے کو بجلی گھر سے واپس بلا لیا ہے۔ کمپنی بجلی گھر میں دیکھ بھال اور جدید کاری کے کام انجام دے رہی تھی۔ حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث کمپنی کے عملے کی واپسی سے بجلی گھر کی 700 میگاواٹ سے زائد پیداواری صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے، جبکہ پلانٹ کی مجموعی صلاحیت تقریباً 1300 میگاواٹ ہے۔

زاوِیہ میں جاری حملوں کا تعلق مغربی لیبیا کی حکومت اور شہر پر اثر رکھنے والے جنگجو محمد بہرون کے درمیان بڑھتی کشیدگی سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ مغربی لیبیا کے بیشتر علاقوں میں مختلف مسلح گروہوں کا اثر و رسوخ ہے جو طرابلس میں وزیراعظم الدبیبہ کی حکومت کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر

وابستہ ہیں۔