Homeخبریںشال حمل قمبرانی سے اہلِ خانہ کی ملاقات نہ ہونے پر وی...

شال حمل قمبرانی سے اہلِ خانہ کی ملاقات نہ ہونے پر وی بی ایم پی کا اظہارِ تشویش

شال ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام شال پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6336ویں روز بھی جاری رہا۔

احتجاجی کیمپ میں غلام عباس اور ان کی اہلیہ نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ بیبرگ قمبرانی کو گزشتہ سال 5 دسمبر کو کلی قمبرانی، کوئٹہ، جبکہ حمل خان قمبرانی کو دشت، ضلع مستونگ میں ڈگاری ایف سی چیک پوسٹ سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ حمل خان قمبرانی کی گرفتاری 7 ماہ کی جبری گمشدگی کے بعد گزشتہ ماہ جبری گمشدگیوں کے حوالے سے بنائے گئے قانون کے تحت ہدہ جیل میں قائم حراستی مرکز سے ظاہر کی گئی، تاہم اس کے باوجود خاندان کو اپنے بیٹے سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

عباس نے کہا کہ ان کا دوسرا بیٹا بیبرگ قمبرانی تاحال لاپتہ ہے اور اس کا کیس متعلقہ کمیشن میں بھی زیرِ سماعت ہے، لیکن اس کے باوجود خاندان کو بیبرگ کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی، جس کے باعث پورا خاندان شدید کرب اور اذیت میں مبتلا ہے۔

اس موقعہ پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے حوالے سے نافذ قانون کے مطابق حراستی مراکز میں رکھے گئے افراد کے اہلِ خانہ ہر 15 دن بعد ان سے ملاقات کر سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود حمل قمبرانی سے ان کے والدین کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ حمل خان قمبرانی سے ان کے اہلِ خانہ کی فوری ملاقات یقینی بنائی جائے، جبکہ بیبرگ قمبرانی کو بھی فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ اگر بیبرگ کے خلاف کوئی الزام ہے تو اسے منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز