کچھی (ہمگام نیوز) مقبوضہ بلوچستان کے علاقے کچھی کے گاؤں جلال خان میں دہائیوں سے آباد پوری ہندو برادری نے ہجرت کر لی لیکن یہاں قائم مندر پر آج بھی رونق ہے۔
کچھی کے مکینوں کا انحصار بارش اور برساتی پانی پر ہے جو نہ ہو تو انسان اور جانور مشکل صورتحال کا سامنا کرتے ہیں۔ جلال خان کے علاقے میں سب سے بڑی مشکل صورتحال پینے کے پانی کی ہے۔
پانچ دہائی قبل یہاں پر قحط سالی اور بارشوں کے نہ ہونے کے باعث ہندو برادری نے مکمل نقل مکانی کرکے دوسرے شہروں کا رخ کرلیا۔ اب یہاں اس مندر کے علاوہ ہندو برادری کا کوئی فرد مستقل آباد نہیں۔
گاؤں جلال خان میں ایک بڑے رقبے پر قائم مندر کے بارے میں برج لال کہتے ہیں کہ یہ تقریباً سو ڈیڑھ سو سال پرانا ہے۔ ہم تو اس کو 1947 سے قبل اسی طرح دیکھ رہے ہیں
ایک ہندو رہائشی کے بقول اس مندر میں ایک وقت میں پانچ ہزار لوگ کھانا کھا سکتے ہیں جبکہ اس میں مزید توسیع کا کام ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف لوگوں کے آنے سے یہاں کے لوگوں کا روزگار لگ جاتا ہے۔ وہیں ہندو برادری کے لوگ اپنی شادیاں بھی یہاں کرنے کے لیے آتے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں ہر وقت رونقیں لگی رہتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ گاؤں سردار جلال خان مغیری کے نام پر ہے۔ انہوں نے اور ان کے بیٹوں نے ہندو برادری کے ساتھ بہت اچھا سلوک روا رکھا ہے۔ ہم یہاں پر بہت محفوظ تھے۔
برج لال نے بتایا کہ یہاں پر جو دکانیں تھیں وہ سردار جلال خان نے ان کو مفت دے رکھی تھیں اور ان سے کسی قسم کا کوئی کرایہ وصول نہیں کیا جاتا تھا۔


