تحریر ۔ صادق ریئسانی ایڈوکیٹ

متحدہ بلوچستان کا تصور بلوچ قومی سیاست، تاریخی شعور اور اجتماعی شناخت کے بنیادی تصورات میں شمار ہوتا ہے۔ بلوچ قوم پرست فکر کے مطابق بلوچستان محض ایک زمینی ٹکڑا نہیں بلکہ ایک تاریخی وطن، تہذیبی اکائی اور قومی وجود کا نام ہے جسے مختلف ادوار میں سیاسی معاہدوں، سامراجی مداخلتوں اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش کے نتیجے میں تقسیم کر دیا گیا۔ اسی تناظر میں متحدہ بلوچستان کا تصور بلوچ قومی تحریک کے ایک حصے کے نزدیک تاریخی انصاف، قومی وحدت اور آذادی کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔

سیاسی مفکر Frantz Fanon نے اپنی معروف کتاب The Wretched of the Earth میں لکھا تھا کہ نوآبادیاتی نظام صرف زمین پر قبضہ نہیں کرتا بلکہ محکوم اقوام کی تاریخ، ثقافت اور اجتماعی شعور کو بھی مسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ فینن کے مطابق جب کوئی قوم اپنی شناخت اور وقار کے تحفظ کے لیے مزاحمت کرتی ہے تو وہ دراصل اپنی تاریخ کو دوبارہ حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہوتی ہے۔ بلوچ قومی تحریک کے حامی اپنی جدوجہد کو بھی اسی تناظر میں دیکھتے ہیں اور استدلال کرتے ہیں کہ بلوچ قوم اپنی تاریخی شناخت اور سیاسی مستقبل کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔

بینڈکٹ ہنڈ ریسن Benedict Anderson نے قوم کو ایک “Imagined Community” یعنی ایک تصور شدہ مگر حقیقی اجتماعی برادری قرار دیا۔ ان کے مطابق قومیں صرف سرحدوں سے نہیں بنتیں بلکہ مشترکہ تاریخ، زبان، ثقافت اور اجتماعی یادداشت سے تشکیل پاتی ہیں۔ بلوچ قوم پرست مفکرین کے نزدیک بلوچ قوم کی وحدت بھی انہی عناصر پر قائم ہے جو موجودہ ریاستی سرحدوں سے ماورا ایک قومی شعور کو جنم دیتے ہیں۔

کلائیو جیمز کی کتاب Injury Time اس پورے تناظر میں ایک گہری فکری معنویت اختیار کر جاتی ہے۔ جیمز کے نزدیک زندگی کا سب سے اہم امتحان وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان یا قوم کو محسوس ہو کہ وقت ختم ہو رہا ہے، مگر اس کے باوجود وہ اپنی امید، یادداشت اور مزاحمت کو زندہ رکھے۔ ان کا خیال تھا کہ انسان کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ فنا سے بچ جائے بلکہ اس میں ہے کہ وہ فنا کے خطرے کے باوجود اپنے وجود کے حق میں کھڑا رہے۔

بلوچ قومی بیانیے میں یہی احساس بار بار سامنے آتا ہے۔ بلوچ تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور قوم پرست دانشوروں کے مطابق پاکستان اور ایران کے زیر قبضہ بلوچ علاقوں میں کئی دہائیوں سے سیاسی دباؤ، فوجی کارروائیاں، جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات، اظہارِ رائے پر پابندیاں اور وسائل کی تقسیم کے تنازعات موجود رہے ہیں۔ متعدد بلوچ کارکن اور تنظیمیں ان پالیسیوں کو بلوچ قوم کے خلاف منظم جبر قرار دیتی ہیں، جبکہ متعلقہ ریاستیں اس مؤقف سے اختلاف کرتی ہیں اور اپنے اقدامات کو سلامتی اور انسدادِ شورش کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتی ہیں۔

یہ تنازع صرف سیاسی نہیں بلکہ انسانی اور نفسیاتی بھی ہے۔

 Hannah Arendt نے لکھا تھا کہ کسی بھی قوم یا گروہ کے لیے سب سے بڑا المیہ صرف حقوق سے محرومی نہیں بلکہ “حق رکھنے کے حق” سے محرومی ہے۔ بلوچ سیاسی حلقوں کے نزدیک مسئلہ بھی اسی بنیادی سوال سے جڑا ہوا ہے کہ آیا بلوچ قوم کو اپنی سیاسی تقدیر کے تعین کا حق حاصل ہے یا نہیں۔

بلوچ قومی تحریک میں جبری گمشدگیوں، فوجی جاریت سیاسی قیدیوں اور انسانی حقوق کے مسائل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ بلوچ کارکنوں کے مطابق ان واقعات نے پورے معاشرے میں خوف، عدم تحفظ اور اجتماعی صدمے کی کیفیت پیدا کی ہے۔

 بعض بلوچ تنظیمیں ان حالات کو بلوچ قوم کے وجود کے لیے خطرہ قرار دیتی ہیں اور بین الاقوامی اداروں سے مداخلت کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ دوسری جانب ریاستی مؤقف یہ ہے کہ سلامتی کے چیلنجز اور مسلح شورش کے تناظر میں اقدامات کیے جاتے ہیں۔ یہی اختلاف آج بھی خطے کی سیاست کا ایک بنیادی محور ہے۔

Edward Said نے اپنی کتاب Culture and Imperialism میں لکھا تھا کہ طاقت صرف بندوق کے ذریعے نہیں بلکہ بیانیے کے ذریعے بھی قائم رہتی ہے۔

 جو قوم اپنی کہانی سنانے کی صلاحیت کھو دیتی ہے، وہ تاریخ میں اپنی جگہ کھو دیتی ہے۔ بلوچ ادب، شاعری، لوک داستانیں اور مزاحمتی موسیقی اسی لیے محض ثقافتی سرگرمیاں نہیں بلکہ قومی بقا کے ذرائع سمجھی جاتی ہیں۔ عطا شاد، گل خان نصیر اور دیگر بلوچ شعراء کی تخلیقات بلوچ اجتماعی یادداشت کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

متحدہ بلوچستان کا تصور اسی اجتماعی یادداشت اور تاریخی شعور کی توسیع کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بلوچ قوم پرست فکر کے مطابق موجودہ سیاسی سرحدوں نے بلوچ قوم کو مختلف ریاستوں میں تقسیم کر دیا، جبکہ ان کے نزدیک زبان، ثقافت، تاریخ اور قومی شناخت اب بھی ایک مشترکہ بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اس تصور کے حامی سمجھتے ہیں کہ بلوچ قومی وحدت کا منطقی نتیجہ ایک ایسا سیاسی بندوبست ہونا چاہیے جس میں بلوچ قوم اپنی اجتماعی خواہشات کے مطابق آزادی کے ساتھ اپنی سیاسی حیثیت کا تعین کر سکیں۔

بین الاقوامی قانون میں آزادی ایک تسلیم شدہ اصول ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کے متعدد بین الاقوامی معاہدے اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں۔ تاہم عملی سیاست میں آزادی ، ریاستی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی استحکام کے درمیان ایک پیچیدہ توازن موجود رہتا ہے۔ اسی لیے دنیا کے مختلف تنازعات میں اس اصول کی تعبیر اور اطلاق مختلف انداز میں سامنے آیا ہے۔

کلائیو جیمز کی کتاب Injury Time کا بنیادی سبق یہی ہے کہ تاریخ کے مشکل ترین لمحات بھی تاریخ کا اختتام نہیں ہوتے۔ جب تک ایک قوم اپنی یادداشت، زبان، ثقافت اور مستقبل کے خواب کو محفوظ رکھتی ہے، اس کی مزاحمت بھی زندہ رہتی ہے۔ بلوچ قومی جدوجہد کے حامیوں کے نزدیک متحدہ بلوچستان کا تصور اسی امید کا نام ہے؛ ایک ایسی امید جو تقسیم، جبر، محرومی اور طویل سیاسی تنازعات کے باوجود ختم نہیں ہوئی۔

 متحدہ بلوچستان صرف جغرافیے کا سوال نہیں بلکہ قومی وقار، تاریخی انصاف، ثقافتی بقا اور سیاسی خودمختاری اور آزادی کا سوال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ قومی تحریک کے حوالے سے بلوچ قوم کے سامنے متحدہ بلوچستان کا خواب ایک سیاسی پروگرام سے بڑھ کر ایک تاریخی عہد، ایک اجتماعی یادداشت اور ایک ایسے مستقبل کا تصور ہے جس میں بلوچ قوم اپنی شناخت، اپنے وسائل اور اپنی تقدیر پر خود اختیار ہو

۔

اگر فینن کے الفاظ میں محکوم اقوام کی جدوجہد تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی کوشش ہے، اگر اینڈرسن کے مطابق قومیں مشترکہ یادداشت سے وجود پاتی ہیں، اگر ایڈورڈ سعید کے مطابق اپنی کہانی سنانا بقا کی شرط ہے، اور اگر کلائیو جیمز کے مطابق امید آخری لمحے تک زندہ رہ سکتی ہے، تو بلوچ قومی فکر کے حامیوں کے نزدیک متحدہ بلوچستان اسی تاریخی امید، قومی یادداشت اور بلوچ قوم کے منزل کی مسلسل تلاش کا نام ہے۔یہ مضمون ایک فکری و سیاسی تجزیہ کے طور پر لکھا گیا ہے۔ مختلف دعووں، خصوصاً نسل کشی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا سیاسی تنازعات کے بارے میں مختلف فریقین کے مؤقف موجود ہیں، اس لیے تحقیقی تحریر میں ان اختلافات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔