شال (ہمگام نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی نے پنجگور کے علاقے چیدگی میں دو جبری لاپتہ نوجوانوں، شعیب ولد محمد ایوب اور پیرجان بلوچ ولد کچکول، کی جعلی مقابلے میں ہلاکت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعات بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں۔
بیان کے مطابق شعیب ولد محمد ایوب، جو پنجگور کا رہائشی اور پیشے کے اعتبار سے دکاندار تھا، کو 8 فروری 2023 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ تین سال سے زائد عرصے تک اس کے اہلخانہ اس کی واپسی کی امید میں انتظار کرتے رہے، تاہم 10 اگست 2026 کو انہیں اطلاع ملی کہ شعیب کو چیدگی، پنجگور میں ایک جعلی مقابلے کے دوران قتل کردیا گیا ہے۔
اسی طرح 23 سالہ پیرجان بلوچ ولد کچکول، جو پنجگور کے علاقے راہی نگور کا رہائشی اور ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والا ڈرائیور تھا، کو 9 جون 2026 کو سہ پہر تقریباً 3 بجے طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ اس کے اہلخانہ 66 روز تک اس کی واپسی کے منتظر رہے، لیکن 10 اگست 2026 کو چیدگی میں اس کی بھی جعلی مقابلے میں ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ پیرجان کے اہلخانہ کو اس کی گرفتاری کے وقت کسی جرم سے آگاہ نہیں کیا گیا، نہ ہی ان کے سامنے کوئی وارنٹ یا ایف آئی آر پیش کی گئی۔ خاندان نے 66 دن تک اپنے بیٹے کی بحفاظت واپسی کی امید قائم رکھی، مگر بالآخر انہیں اس کی لاش موصول ہوئی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق چیدگی، پنجگور میں پانچ نوجوان بلوچوں کی ہلاکت کا واقعہ بھی انتہائی تشویشناک ہے، جہاں فورسز کی جانب سے لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں۔ تنظیم نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، غیر قانونی حراست، تشدد، ماورائے عدالت قتل، ٹارگٹ کلنگ اور جعلی مقابلوں کے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں، جن کے باعث بلوچ خاندان مستقل خوف، بے یقینی اور صدمے کا شکار ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ شعیب اور پیرجان کے واقعات محض دو خاندانوں کا المیہ نہیں بلکہ ایک ایسے وسیع تر انسانی حقوق کے بحران کی عکاسی کرتے ہیں جس میں نوجوانوں کی زندگیاں، مستقبل اور خاندانوں کے بنیادی حقوق متاثر ہورہے ہیں۔ مائیں اپنے بیٹوں کی واپسی کی منتظر رہتی ہیں، والدین اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات کے لیے دربدر ہوتے ہیں، جبکہ طویل جبری گمشدگی کے بعد لاش ملنا خاندانوں کے لیے ناقابلِ تلافی صدمہ بن جاتا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، ٹارگٹ کلنگ اور مبینہ جعلی مقابلوں کے واقعات کی آزاد، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ تنظیم نے کہا کہ ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق جواب دہ بنانا اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا ضروری ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر سنجیدہ اور آزادانہ دستاویز بندی کی ضرورت ہے۔ اگر صرف ایک ماہ کے واقعات کا بھی جامع جائزہ لیا جائے تو جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور جعلی مقابلوں کے پیمانے کو سمجھا جاسکتا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ شعیب کی تین سال سے زائد عرصے پر محیط جبری گمشدگی اور پیرجان کی 66 روزہ گمشدگی کا اختتام ان کی لاشوں کی صورت میں ہوا۔ دونوں خاندان اپنے پیاروں کی زندگی، واپسی اور انصاف کے حق دار تھے، انہیں برسوں کی بے یقینی کے بعد صرف لاشیں اور بے شمار سوالات ملے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کو بلوچستان میں شہریوں کے جان و مال اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔


