کوئٹہ (ھمگام نیوز) جس طرح ریاست پاکستان پنتالیس سال قبل حمید بلوچ کو بغیر ٹھوس ثبوت اور شواہد کے پھانسی پر چڑھایا گیا، اور وہ مقدمہ آج تک وہ فیصلہ ریاست پاکستان کے پیشانی پر سیاہ داغ ہے۔ اسی طرح یہ مقدمہ بھی جج مبین، ان کے حواریوں، ان کے سرپرستوں، پیپلز پارٹی کی ڈیتھ اسکواڈ حکومت،محکمہ داخلہ اور اس پورے عدالتی بندوبست سمیت پورے ریاست کی پیشانی پر ایک ایسا داغ بن کر رہے گا جسے تاریخ کبھی نہیں بھولے گی۔
اس کیس میں کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔ اگر ایک بھی قابلِ قبول ثبوت موجود ہوتا تو کم از کم یہ کہا جا سکتا تھا کہ مقدمہ چلایا جائے۔ اس ایک کیس پر دو الگ الگ ایف آئی آر موجود ہے، مگر جہاں ایک بھی ٹھوس ثبوت موجود نہیں، جہاں شواہد مشکوک ہیں، جہاں ایف آئی آرز خود ایک دوسرے سے متصادم ہیں، وہاں عمر قید کی سزا سنانا انصاف نہیں بلکہ جبر ہے، اور یہ جبر بھی معمولی نہیں بلکہ کھلا ریاستی و عدالتی جبر ہے۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی ایف سی اہلکار ایک ایف آئی آر کے مطابق 27 جولائی کو مر جائے اور دوسری ایف آئی آر کے مطابق 29جولائی کو بھی مرے؟ ایک انسان دو بار کیسے مر سکتا ہے؟ جب مقدمے کی بنیاد ہی اس قدر متضاد، مشکوک اور غیر معتبر ہو تو اس بنیاد پر عوامی رہنماؤں کو عمر قید دینا قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ قانون کا جنازہ ہے۔
اس جھوٹے فیصلے کو عوامی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ آج طاقت کے بل بوتے پر قانون کو توڑا مروڑا جا رہا ہے۔ آج طاقت کے بل بوتے پر عوامی رہنماؤں کو سزا دی جا رہی ہے۔ آج طاقت کے بل بوتے پر بلوچ نسل کشی جارہی ہے، اورعوام خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگرتاریخ خاموش نہیں ہوگی یہ سب تاریخ میں لکھا جائے گا کیونکہ تاریخ طاقتور نہیں لکھتے، تاریخ عوام لکھتے ہیں۔
ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ بندوقیں عوام کے ہاتھوں میں نہیں تھیں، بندوقیں ایف سی کے کارندوں کے ہاتھوں میں تھیں۔ ۔راجی مُچی کے دوران چار بلوچ شہید کیے گئے، درجنوں زخمی ہوئے، تین لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہوئے، ایک شخص کے سر میں گولی ماری گئی اور وہ آج تک معذوری اور اذیت کی زندگی گزار رہا ہے۔ مگر ان شہیدوں، زخمیوں اور معذوروں کے لیے کسی کو سزا نہیں ملی۔ جنہوں نے عوام پر گولیاں چلائیں، جنہوں نے بسوں کے ٹائر پھاڑے، جنہوں نے لوگوں کے گھروں میں لوٹ مار کی، جنہوں نے عوامی اجتماع کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی، ان میں سے کسی کو سزا نہیں ملی۔
لیکن ایک ایسے ایف سی اہلکار کے قتل کے نام پر، جس کے بارے میں ایف آئی آرز خود متضاد ہیں،جس کے بارے میں شواہد مشکوک ہیں، پرامن عوامی رہنماؤں کو عمر قید کی سزا دی گئی۔ یہی اس نظام کا اصل چہرہ ہے۔ یہی وہ انصاف ہے جو بلوچستان کو دیا جاتا ہے۔ قاتل آزاد ہیں، مظلوم قید ہیں۔ بندوق والے محفوظ ہیں، خالی ہاتھ عوام مجرم بنا دیے گئے ہیں۔
یہ صرف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ صبغت اللہ بلوچ کا مقدمہ نہیں۔ یہ بلوچستان کی عوامی سیاست، عوامی مزاحمت، لاپتہ افراد کے خاندانوں کی فریاد، اور بلوچ قوم کے اجتماعی شعور کا مقدمہ ہے۔ اس فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ بلوچستان میں پرامن رہنا بھی جرم بنا دیا گیا ہے، سوال پوچھنا بھی جرم ہے، اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھانا بھی جرم ہے، اور ریاستی جبر کو بے نقاب کرنا بھی جرم ہے۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ ہماری جدوجہد جمہوری ہے، سیاسی ہے، تاریخی ہے، اور حق پر مبنی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی، اپنی عزت، اپنی زمین، اپنے لاپتہ افراد، اپنے شہیدوں اور اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ ہماری نسل کشی کرے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ ہمارے پرامن اجتماعات کو گولیوں سے جواب دے۔ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ جھوٹے مقدمات کے ذریعے ہماری قیادت کو قید کرے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ جیلیں اس تحریک کو نہیں روک سکتیں۔ سزائیں اس شعور کو ختم نہیں کر سکتیں۔ جھوٹے مقدمات عوامی حقیقت کو دفن نہیں کر سکتے۔ آج وہ طاقت کے نشے میں فیصلے لکھ رہے ہیں، مگر کل تاریخ ان فیصلوں کا حساب لکھے گی۔
ہم حق پر کھڑے ہیں۔ وہ ظلم پر کھڑے ہیں۔ ہم سچ کے ساتھ ہیں۔ وہ جھوٹ، بندوق اور جبر کے ساتھ ہیں۔ ہم اپنے لوگوں کے قاتلوں، اپنے شہیدوں کے ذمہ داروں، اور اس جابرانہ نظام کے چہروں کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔
آج کا فیصلہ آخری فیصلہ نہیں ہے۔ آخری فیصلہ عدالتوں کے بند کمروں میں نہیں ہوگا۔ آخری فیصلہ عوام کی تاریخ کرے گی۔


