Homeخبریںقانون یا جبر؟ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات اور عدالتی نظام...

قانون یا جبر؟ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات اور عدالتی نظام پر سوالات

کوئٹہ (ھمگام نیوز) ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے جیل میں اپنے مقدمات کی فیس لیس ٹرائل میں منتقلی کے خلاف دھرنا دیا ہے جو اب آٹھویں دن میں داخل ہو چکا ہے۔ اس دھرنے میں بیبرگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ شامل ہیں۔ یہ جیل کے اندر جاری ان کا پانچواں دھرنا ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ احتجاج مسلسل 192 گھنٹوں سے جاری ہے۔

13 جون کو پیشی کے دوران جیل سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں انہیں بتایا گیا کہ ان کے مقدمات کو فیس لیس ٹرائل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف انہوں نے فوری احتجاج کیا اور بیرکوں میں واپس جانے سے انکار کر دیا۔ تب سے وہ جیل کے احاطے میں پرامن دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مطابق یہ دھرنا صرف مقدمات کی منتقلی کے خلاف نہیں بلکہ ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ ہے، جس میں ریاستی طاقت، قانون اور انصاف کے معیار پر سوال اٹھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دھرنے کے دو بنیادی مطالبات ہیں: مقدمات کی سماعت کھلی عدالت میں کی جائے اور انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج محمد علی مبین کا تبادلہ کیا جائے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ابتدا میں انہیں ایک خصوصی قانون کے تحت حراست میں لیا گیا، بعد میں طویل ریمانڈ پر رکھا گیا، اور 11 اکتوبر سے جیل ٹرائل شروع ہوا۔ اب 12 جون کے نوٹیفکیشن کے ذریعے مقدمات کو فیس لیس ٹرائل میں منتقل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا ایسے حالات میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں قانون شفاف اور جمہوری اصولوں کے مطابق کام کر رہا ہے؟ ان کے مطابق جب مقدمات کی سماعت محدود یا غیر شفاف طریقے سے کی جائے تو انصاف کا تصور متاثر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی قوانین میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، کیونکہ محض شک کی بنیاد پر طویل حراست ممکن ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق انہی قوانین کے تحت متعدد بلوچ نوجوانوں اور خواتین کو مختلف حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے عدالتی کارروائی کے دوران پیش آنے والے بعض واقعات کا حوالہ دیا، جن میں پراسیکیوشن کی جانب سے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی بات بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر عدالت سے کہا گیا کہ فیصلے ریاستی مؤقف کے مطابق ہونے چاہئیں۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک ہی نوعیت کے مقدمات میں ضمانتوں کے فیصلوں میں تضاد دیکھا گیا، جس سے عدالتی غیر جانبداری پر سوالات پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق بعض سماعتوں میں انہیں یہ بھی کہا گیا کہ وہ اپنا مسئلہ کہیں اور حل کریں، جس پر ان کا مؤقف تھا کہ فیصلہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

یہ تحریر موجودہ عدالتی نظام، قانون کے اطلاق اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتی ہے اور شفاف عدالتی عمل کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز