تحریر :مہر دار

کسی بھی معاشرے میں دانشور کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے، خصوصاً اُن معاشروں میں جو جنگ کا شکار ہوں۔ یہی طبقہ قومی تحریکوں، اداروں اور قیادت کے پس منظر میں نہ صرف فکری سمت متعین کرتا ہے بلکہ تحریک کو نظریاتی توانائی بھی فراہم کرتا ہے۔

مگر موجودہ دور، جو سنسنی، تیزی اور مسلسل شور سے عبارت ہے، اس میں دانش، فلسفہ اور ادب بتدریج پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ایک معمول بن چکا ہے۔ حتی کہ ایلن بدایو جیسے فلسفی کے پیچیدہ تصورِ “ایونٹ” کو بھی سطحی انداز میں استعمال کیا جاتا ہے، جو ان جیسے فلاسفرز کو بار بار بھلی پہ چڑھانے کے مترادف ہے کیونکہ اُن کے فلسفے کے تناظر میں “نائن الیون” جیسے بڑے واقعات بھی “ایونٹ” کے زمرے میں نہیں آتے۔(ملاحظہ ہو ایلن بدایو ڈکشنری)
نتیجتاً وہ خلا، جو سنجیدہ فکر، گہرے تجزیے اور ادبی بصیرت سے پُر ہونا چاہیے تھا، اب نعروں، جذباتی تقاریر اور سطحی گفتگو کے ذریعے بھرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ یوں یہ خلیج کم ہونے کے بجائے مزید وسیع تر ہوتی جا رہی ہے
بلوچ قومی تحریک کو درپیش دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ایک اہم مسئلہ اندرونی تقسیم بھی ہے، جو اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی ، اتحاد کی کوششیں بارہا کی گئیں، مگر اکثر نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔ اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ انٹرنیشنل بلاگز کے اثر رسوخ کے ساتھ ساتھ فکری سنجیدگی نظریاتی وضاحت کے بجائے سیاسی و عسکری مشیروں کی مصلحتیں اور بعض اوقات ریاکاری کا غلبہ ہے۔ جب حکمتِ عملی دانش کے بجائے وقتی چالوں کے تابع ہو جائے، تو اتحاد محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتا ہے اور عملی شکل اختیار نہیں کر پاتا۔ ہمیں اس ذہنیت سے نکلنا ہے، آج نہیں تو کل وگرنہ ہم محض لڑائ لڑنے کےُ لئے لڑتے رہینگے ۔
مزید برآں یہ کہ اس دور کی مسابقتی فضا، “آگے دوڑ، پیچھے چھوڑ” نے ایک ایسی ذہنیت کو فروغ دیا ہے جس نے بلوچ قومی سیاست کو بئت حد تک متاثر کیا ہے۔ ہر گروپ فوری برتری اور اثر و رسوخ کے حصول میں مصروف ہے، جبکہ طویل المدتی حکمتِ عملی، باہمی اعتماد اور اجتماعی مفاد پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ اس شور اور مقابلے کے ماحول میں اتحاد کی سنجیدہ آوازیں دب جاتی ہیں، اور اس کا بالواسطہ فائدہ نہ صرف ریاستی بیانیے کو پہنچتا ہے، جو اسی انتشار سے تقویت پاتا ہے بلکہ بیرونی طاقتیں بھی بطور مجموعی قومی تحریک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑ ے ہونے کی بجاۓ ہمیں بے سمت دوڑاتے رہینگے ۔
ستر کی دہائی سے وابستہ ایک بزرگ کمانڈر کو جب سن رہا تھا ان کا یہ اعتراف آج بھی پوری معنویت رکھتا ہے کہ “ہماری اصل بیماری نفاق ہے”۔ ستر کی دہائی سے لے کر آج تک نصف صدی گزر جانے کے باوجود، ہم اسی نفاق کو مختلف صورتوں میں دہراتے نظر آرہے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ اختلاف کیوں ہے، سیاسی اختلاف ہر زندہ تحریک کا لازمی جزو ہوتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اختلاف کو تصادم اور مسابقت کے بجائے کسی اعلیٰ حکمت میں ڈھال سکتے ہیں؟
یہیں سے دانش کا کردار ابھرتا ہے۔ سیاست میں امکانات کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے، کوئی دروازہ ہمیشہ کے لیے بند نہیں ہوتا۔ اکثر نئے امکانات شور و غوغا میں نہیں بلکہ “ان کہی” کے دائرے میں جنم لیتے ہیں۔ شعوری خاموشی محض خاموشی نہیں رہتی بلکہ ایک حکمتِ عملی بن جاتی ہے۔ تاریخ میں کئی اہم فیصلے ایسے ہی غیر اعلانیہ مفاہمتوں کے ذریعے ممکن ہوئے ہیں، جہاں نہ بلند بانگ دعوے کیے گئے اور نہ ہی وقتی سیاسی مصلحتوں کو غالب آنے دیا گیا، بلکہ قوم ، وطن اور مقصد کو مقدم رکھا گیا۔

تاریخ میں اس کی ایک شاندار مثال پرتگال کی ملتی ہے، جہاں ایک خفیہ ملاقات میں دانشور راہنماء انتونس اور کونال کے درمیان بغیر کسی رسمی معاہدے کے ایک غیر اعلانیہ سمجھوتہ طے پایاگیا، بظاہر وہ متفق نہیں تھے، مگر دونوں نے یہ سمجھ لیا کہ کمیونسٹ قوتیں فوری انقلاب کی کوشش نہیں کریں گی، اور فوج جمہوری عمل میں انہیں ایک جائز سیاسی فریق کے طور پر تسلیم کرے گی۔ اس خاموش مفاہمت نے پرتگال کو ممکنہ خانہ جنگی سے بچا لیا۔

اسی تصور کو سلاووی ژیژک نے اپنی کتاب Less Than Nothing میں “ان کہی کی طاقت” کے طور پر بیان کیا ہے۔ وہاں ایک طرف انقلابی قوتیں تھیں جو سوشلسٹ انقلاب کے قریب تھیں، اور دوسری طرف وہ عناصر جو ہر قیمت پر اسے روکنا چاہتے تھے۔ بظاہر مفاہمت ناممکن تھی، مگر اسی ناممکن فضا میں ایک غیر مرئی سمجھوتہ وجود میں آیا، جس نے تصادم کو ٹال دیا اور سیاسی عمل کو جاری رکھا۔

موجودہ صورتحال پر نظر ڈالیں تو ایک مماثل مگر مختلف مسئلہ سامنے آتا ہے۔ یہاں اکثر سیاسی قیادت کے بجائے سیاسی مشیروں کا اثر غالب دکھائی دیتا ہے۔ کس سے سیاسی عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں اظہار کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں، وہیں اس نے سطحیت، عجلت اور انتشار کو بھی فروغ دیا ہے۔ ہر فرد اور ہر گروپ اپنی رفتار میں اس قدر مگن ہے کہ اجتماعی سمت کا شعور مدھم پڑ چکا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سب اپنے اپنے گھوڑے دوڑا رہے ہوں، ایسے گھوڑے جو مقابلے کے لیے تیار کئے گئے ہیں جو سیدھی دوڑ کے عادی ہیں اور اطراف میں دیکھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔

اب بنیادی سوال یہی ہے، کیا سیاسی قیادت، دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے، وقتی مشیروں کی حکمتِ عملیوں سے بالاتر ہو کر کوئی ایسا مکالمہ قائم کر سکتی ہے جو “خاموش مفاہمت” کی شکل اختیار کرے؟
یا پھر یہ دوڑ اسی طرح جاری رہے گی، جہاں ہر فریق اپنی انفرادی رفتار کو کامیابی سمجھتا رہے گا، جبکہ مجموعی قافلہ بکھرتا جائے گا؟

یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ حقیقی اتحاد ہمیشہ نعروں، قراردادوں یا اعلانات سے پیدا نہیں ہوتا۔ وہ اکثر ان خاموش لمحوں میں بھی جنم لیتا ہے جہاں فریقین کم بولتے ہیں اور زیادہ سمجھتے ہیں۔ یہی خاموش مفاہمت، اگر شعوری اور سنجیدہ ہو، تو مستقبل میں ایک مضبوط اور پائیدار اتحاد کی بنیاد بن سکتی ہے، جہاں سیاسی عمل خود انحصاریت میں ڈھل کر لہو کی قربانی کو محض زمیں وطن و قوم سے جوڑ دیں۔