ہمگام نیوز : کردگاپ اور گرگینہ میں گزشتہ تین دنوں سے فورسز کا آپریشن جاری ہے جس میں اب تک بیس سے زائد افراد کو حراست میں لے کر جبری لاپتہ کیا گیا ہے. جبری لاپتہ کیے جانے والوں میں طلباء ،زمیندار، اساتزہ دیگر سرکاری ملازمین کے ساتھ لیویز اور ایف سی کے اہلکار بھی شامل ہیں. ان میں پرویز سرپرہ ولد محمد وارث، عبدالرسول ولد عبدالباقی سرپرہ ،بابو سفر خان ولد سکندر خان سرپرہ، عبدالجبار ولد سکندر خان سرپرہ، زبیر سرپرہ ولد عبدالمجید ،زیشان ولد تماخان سرپرہ ، نقیب اللہ ولد حاجی علی احمد سرپرہ ، محب اللہ ولد عبدالباقی سرپرہ اور حسنین کو کردگاپ سے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کیا گیا جب کہ کلی رودینی سے لیویز رسالدار خان محمد رودینی اور ان کے بھائی غلام ربانی رودینی جو ایف سی اہلکار ہیں کو حراست میں لیا گیا جب کہ گرگینہ سے دو بھائیوں غوث بخش سرپرہ اور ساجد کو گرفتار کر کے لاپتہ کیا گیا. چند دن پہلے کردگاپ سے تعلق رکھنے والے تین بھائیوں اختیار احمد ، مختیار احمد اور غلام سرور ولد میجر درمحمد سرپرہ کو کوئٹہ سے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کیا گیا. آپریشن کے دوران پہاڑوں پر اندھا دھند گولے فائر کیے گئے جس سے مال مویشیوں اور چرواہوں کو نقصانات ہوئے ہیں تاہم ان نقصانات کی تفصیل معلوم نہیں ہو سکے. اس کے علاوہ کردگاپ میں بعض زمینداروں کے ٹیوب ویلوں کے سولر پلیٹس پر فورسز نے فائرنگ کر کے انھیں نقصان پہنچایا اور ٹیوب ویلوں پر بنے کمروں کو بھی مسمار کیا گیا ہے.















