شال(ھمگام نیوز) بی ایس او آزاد کے ترجمان شولان بلوچ بلوچ قومی رہنما اور موجودہ بلوچ قومی تحریک کے بانی نواب خیربخش مری کے برسی کے موقع پر اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ بلوچ قومی تحریک کے سرخیل رہنما بابا خیربخش مری کو ان کے بارہویں برسی کے موقع پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے بلوچ سرزمین کے قبضہ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی آزادی کے نظریے سے دستبردار ہوئے۔ وہ ان دور اندیش بلوچ رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے تمام تر فکری اور معروضی کھٹن حالات سے لڑ کر بلوچ قوم کو آزادی کے طویل سفر پر یکجا کیا۔ انہوں نے بلوچ قومی تحریک کو ایک واضح نظریاتی سمت فراہم کرکے آزادی کے نظریے پر اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ وہ بلوچ قومی تحریک کے ان بانیوں میں سے تھے جنہوں نے قومی غلامی اور قبضہ گیریت کے خلاف مزاحمت کی بنیادیں بلوچ قومی تحریک کو نظریاتی حوالے سے منظم کرنے کی شکل میں قائم رکھی۔

بابا خیربخش مری نہ صرف ایک عظیم رہنما تھے بلکہ وہ نظریہ آزادی سے لیس ہوکر بلوچ قوم میں آزادی کا شعور بیدار کرنے کے ایک سچے علمبردار تھے۔ جب وہ جلاوطن ہوئے تو انہوں نے جلاوطنی کی کٹھن زندگی مایوسی میں نہیں بلکہ بلوچ قومی تحریک کو دوبارہ نظریاتی اورعملی حوالے سے مضبوط کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے میں گزاری جس کی واضح مثال نوے کی دہائی میں ان کی جلاوطنی سے واپسی کے بعد کی جدوجہد ہے۔ جلاوطنی کے بعد بلوچ نوجوانوں نے انہیں اپنا رہنما مان کر ان کی فلسفہِ آزادی کی پیروی کی، جس سے وہ بلوچ قومی تحریک کے ایک ایسے عظیم پیامبر بن کر ابھرے کہ جس نے بلوچ مزاحمت کو ایک نئی روح فراہم کی۔ وہ اپنے قول و فعل میں بااصول ہونے کے ساتھ بلوچ قومی تحریک کے ہر پہلو پر انتہائی حساس شخصیت رہے ہیں۔

آزادی کی تحریکوں و انقلابوں میں ایسے سرخیل رہنما ہوتے ہیں جن سے ان تحریکوں کی پہچان وابستہ ہوتی ہے۔ اگر ہم بلوچ قومی تحریک میں اس سرخیل کردار کو بابا خیربخش مری کا نام دیں جن سے آزادی کی تحریک کی بنیادیں جڑی ہیں تو غلط نہیں ہونگے۔ یہی وہ رہنما تھا جب ستر کے دہائی میں بلوچ قومی تحریک کمزور ہوئی تو کئی رہنماؤں نے بلوچ قومی مقصد سے منہ موڑ کر خاموشی کا راستہ اختیار کیا مگر بابا خیربخش کے لیے وہ ایک تاریخی تجربہ تھا جس سے انہوں نے سیکھ کر نوے کی دہائی میں بلوچ قومی تحریک کو ایک واضح سمت دی۔ ستر کے دہائی کے رہنماؤں میں سے خیر بخش ہی کامیاب شخصیت ابھر کر سامنے آیا جس کا فلسفہ آج بلوچ آزادی کی تحریک میں نوجوانوں کی شکل میں جاری ہے۔ یہ ان کی نظریے کی کامیابی ہے کہ انہوں نے کبھی بھی سمجھوتہ بازی نہیں کی بلکہ بلوچ قوم کی آزادی کی پرچار کرتے ہوئے جابر قوتوں کو دوٹھوک الفاظ میں واضح کی کہ قومی تحریک کبھی زیر نہیں ہوتے، جس کا ثبوت آج بلوچ قومی تحریک کی فکری اور ساختی حوالے سے مزید منظم اور مضبوط ہوکر جاری رہنا ہے۔

آج کی آزادی کی تحریک ان کی فلسفہ کے پیروی کرتی ہے کہ جو رہنما دور اندیش ہوکر اپنی قوم کی مستقبل کے بارے میں جدوجہد کرتے ہوئے ہر کھٹن حالات میں ہمیشہ ڈٹے رہتے ہیں، وہ کبھی بھی شکست سے دوچار نہیں ہوتے۔ جبکہ دوسری جانب ان کے وہ ساتھی جو بلوچ قومی تحریک میں ہمیشہ ابہام کا شکار ہوکر سمجھوتہ بازی میں پھنسے رہے آج وہ ناکام اور سوداگر کے القابات سے پہچانے جاتے ہیں۔

بلوچ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ آزادی کے پیامبر بابا خیر بخش مری کا مطالعہ کریں، ان کی فکر و فلسفہ کو سمجھ کر بلوچ قومی تحریک میں اپنا قومی کردار ادا کریں۔