کوئٹہ(ھمگام نیوز) کوئٹہ میں ہدہ جیل کے سامنے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے رہنماؤں کے اہلِ خانہ نے جیل کے اندر جاری مبینہ “فیس لیس ٹرائلز” اور انصاف کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے، جو گزشتہ کئی روز سے جاری ہے۔
مظاہرین کے مطابق بی وائی سی کے رہنما گزشتہ آٹھ روز سے جیل کے اندر عدالتی کارروائی کے خلاف احتجاج پر ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان مقدمات میں ملزمان کی عدم موجودگی میں کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے، جس کے باعث وکلاء کو مؤثر دفاع، سرکاری گواہوں پر جرح اور استغاثہ کے دلائل کو چیلنج کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔
اہلِ خانہ اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کے ذریعے ایک طرفہ کارروائی کر کے مبینہ طور پر من پسند فیصلے حاصل کیے جا رہے ہیں، جبکہ زیرِ حراست رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت بھی تاحال نہیں دی گئی۔
احتجاج کے دوران صورتحال کشیدہ رہی، جہاں مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ پولیس کی جانب سے خواتین سمیت احتجاج کرنے والوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی گئی۔ بعض مظاہرین کے مطابق پولیس نے دھمکیاں دیں اور گرفتار کرنے کی وارننگ بھی دی گئی۔
مظاہرین نے مزید کہا کہ انہیں ہراسانی اور دباؤ کا سامنا ہے، تاہم وہ اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
کوئٹہ میں جاری یہ احتجاج جیل نظام اور عدالتی کارروائیوں میں شفافیت سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے، جبکہ صورتحال بدستور کشیدہ بنی ہوئی ہے۔


