لندن(ھمگام نیوز) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے بلوچ کارکنان ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو عمر قید کی سزا سنائے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
جنوبی ایشیا کے لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی قائم مقام علاقائی ڈائریکٹر ازابیل لاسے نے 22 جون 2026 کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ منصفانہ ٹرائل کے حق کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی قوانین کو پرامن اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سزا ایک تیز رفتار خفیہ ٹرائل کے بعد سنائی گئی جو جیل کے احاطے میں منعقد ہوا۔ اس دوران بین الاقوامی معیار کے منصفانہ ٹرائل اور قانونی عمل سے متعلق سنگین خدشات سامنے آئے۔ ان کے مطابق استغاثہ کی جانب سے کوئی براہِ راست ثبوت پیش نہیں کیا گیا جو ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو مبینہ تشدد سے جوڑتا ہو۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مزید کہا کہ یہ سزا ایک طویل غیر قانونی حراست کے بعد سامنے آئی ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو مارچ 2025 میں ایک پُرامن دھرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں ان کے خلاف پاکستان بھر میں انسدادِ دہشت گردی کے دو درجن سے زائد مقدمات درج کیے گئے۔ تنظیم کے مطابق مقدمات کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ان کے وکلا کے لیے ان کا ریکارڈ رکھنا بھی مشکل ہو گیا تھا، جس سے مؤثر قانونی دفاع متاثر ہوا۔
بیان میں کہا گیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی کو صرف ان کے انسانی حقوق کے کام کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں فوری طور پر رہا کرتے ہوئے ان کی سرگرمیوں سے متعلق تمام مقدمات ختم کیے جائیں۔
پس منظر
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے رہنما ہیں، جو بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور معاشی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والی ایک پُرامن شہری حقوق کی تحریک ہے۔ مارچ 2025 میں احتجاجی مظاہروں کے بعد انہیں دیگر چار بلوچ کارکنان کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا اور وہ مختلف مقدمات کے تحت اب تک حراست میں ہیں۔
22 جون 2026 کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نے انہیں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 (قتل) اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی۔ ان پر جولائی 2024 میں بلوچ راجی مچی (بلوچ قومی اجتماع) کے دوران فرنٹیئر کور (ایف سی) کے ایک اہلکار کے مبینہ قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ جی نے منصفانہ ٹرائل کے حق سے مسلسل محرومی اور جج کے مبینہ جانبدارانہ رویے کے خلاف عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔ مقدمے کے آخری مراحل میں سرکاری طور پر مقرر کردہ وکیلِ صفائی نے ان کی نمائندگی کی، تاہم تنظیم کے مطابق اس نے ملزمان سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ بعد کے مراحل میں دونوں رہنماؤں کو صرف ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شامل ہونے کا اختیار دیا گیا۔
عدالتی فیصلے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو اجتماع میں شرکت اور مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا، جبکہ صبغت اللہ شاہ جی پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اس ہجوم کا حصہ تھے جس نے ایف سی اہلکار پر حملہ کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق احتجاج کے دوران کم از کم تین بلوچ مظاہرین بھی ہلاک ہوئے تھے، تاہم ان ہلاکتوں کے ذمہ دار کسی فرد کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔














