Homeخبریںجاشک میں دو بلوچ بھائیوں کی گرفتاری، ایک بندرعباس منتقل، دوسرے کے...

جاشک میں دو بلوچ بھائیوں کی گرفتاری، ایک بندرعباس منتقل، دوسرے کے بارے میں ایک ماہ سے کوئی اطلاع نہیں

جاشک(ھمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے ضلع جاشک میں قابض ایرانی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے دو بلوچ بھائیوں کی گرفتاری کے بعد ان کے اہل خانہ شدید تشویش اور بے خبری کی صورتحال سے دوچار ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق، 21 جون 2026 کو ایک بلوچ سنی دینی طالب علم کو محکمہ اطلاعات (ادارہ اطلاعات) جاسک کی جانب سے طلب کیے جانے کے بعد گرفتار کر لیا گیا اور بعد ازاں بندرعباس منتقل کر دیا گیا۔

 

گرفتار ہونے والے شہری کی شناخت حمزہ ترابی کے نام سے ہوئی ہے، جن کی عمر 25 سال بتائی جاتی ہے۔ وہ دادنبی کے فرزند اور ضلع جاسک کی تحصیل گابریک کے گاؤں پرکوہ کے رہائشی ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق محکمہ اطلاعات جاسک نے حمزہ ترابی کو ایک ٹیلی فون کال کے ذریعے طلب کیا تھا۔ دفتر پہنچنے پر انہیں حراست میں لے لیا گیا، تاہم ان کے خلاف کسی باضابطہ الزام یا مقدمے کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔ گرفتاری کے بعد انہیں بندرعباس منتقل کر دیا گیا۔

 

ذرائع کے مطابق تقریباً ایک ماہ قبل حمزہ ترابی کے بڑے بھائی طالب ترابی، عمر 30 سال، کو بھی “نظام مخالف مسلح گروہوں سے تعلق” کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم ان کے اہل خانہ نے اس الزام کی سختی سے تردید کی تھی۔

 

طالب ترابی کی گرفتاری کو ایک ماہ گزر جانے کے باوجود اہل خانہ کو ان کی موجودہ صورتحال، مقامِ حراست یا قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ دونوں بھائیوں کی گرفتاری کے بعد خاندان شدید اضطراب اور تشویش میں مبتلا ہے۔

 

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران بلوچستان میں کم از کم 978 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں 394 افراد ایسے تھے جو شناختی دستاویزات یا قومی شناختی کارڈ سے محروم تھے۔

 

اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس عرصے کے دوران 19 اجتماعی گرفتاریاں ریکارڈ کی گئیں، جن میں ایک سے زائد افراد کو بیک وقت حراست میں لیا گیا، جبکہ 12 واقعات میں ایک ہی کارروائی کے دوران پانچ سے زیادہ افراد گرفتار کیے گئے تھے۔

 

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کے بعد افراد کے اہل خانہ کو معلومات فراہم نہ کرنا اور طویل عرصے تک بے خبری میں رکھنا بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز