تفتان (ھمگام نیوز) منگل کی صبح، 28 جولائی 2026ء کو درجنوں قابض ایرانی سیکورٹی گاڑیوں پر سوار اہلکاروں نے ضلع تفتان کے گاؤں چاہ احمد پر چھاپہ مار کر 8 بلوچ شہریوں کو ان کے گھروں سے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
ذرائع کے مطابق قابض ایرانی سیکورٹی اہلکاروں نے صبح تقریباً 4 بجے شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارے۔ اس دوران خواتین اور بچوں کے سامنے ان کی شدید زدوکوب کی گئی اور کسی بھی عدالتی وارنٹ یا گرفتاری کی وجہ بتائے بغیر انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔
شناخت شدہ 8 افراد کے نام درج ذیل ہیں:
حمید شهبخش کمبرزهی ، کامران حمید شهبخش کمبرزهی اور حبیب شهبخش کمبرزهی ولدیت شوکت،
سعید شهبخش کمبرزهی ، اکبر شهبخش کمبرزهی اور ناصر شهبخش کمبرزهی ولدیت موسی ، محمد شهبخش کمبرزهی ولدیت نبی، ایک بلوچ جس کا نام معلوم نہیں ہے لیکن انکی ولدیت ملا ناصر کمبرزهی شامل ہیں
رپورٹ کے مطابق تمام گرفتار شدگان مقامی مزدور اور کاروباری افراد ہیں جو چاہ احمد کے علاقے میں ڈینٹنگ، پینٹنگ اور ویلڈنگ جیسے کاموں سے وابستہ ہیں۔
گرفتاری کے کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی اہل خانہ کو ان کی جائے حراست، جسمانی حالت یا عائد کردہ الزامات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکی ہیں۔
واضح رہے کہ گرفتار ہونے والے تین بھائیوں (سعید، اکبر اور ناصر) کے ایک بھائی **نعمت اللہ شہ بخش کمبرزهی کو 16 مارچ 2026ء کو چاہ احمد میں ہی قابض ایرانی سیکورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا، اور اس کی میت تقریباً 40 دن بعد اہل خانہ کے حوالے کی گئی تھی۔
سرکاری میڈیا نے اس پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کے الزامات عائد کیے تھے، جسے اس کے اہل خانہ اور مقامی ذرائع نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے کسی بھی مسلح تنظیم سے ان کی وابستگی کی تردید کی تھی۔
خبر کی اشاعت تک حکومتی یا سیکورٹی اداروں کی جانب سے اس چھاپے اور گرفتاریوں کی وجوہات کے حوالے سے کوئی موقف سامنے نہ
یں آیا ہے۔


