Homeخبریںبلوچستان: پاکستانی فورسز کے ہاتھوں 5 افراد جبری لاپتہ، 3 بازیاب

بلوچستان: پاکستانی فورسز کے ہاتھوں 5 افراد جبری لاپتہ، 3 بازیاب

شال(ھمگام نیوز) بلوچستان میں جولائی 2026 کے دوران مزید پانچ افراد کو مختلف علاقوں سے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ اسی عرصے میں تین افراد بازیاب ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 3 جولائی 2026 کو مستونگ سے دو سگے بھائی، ثناء اللہ بلوچ ولد شیر احمد بلوچ (25 سال)، جو محکمہ پولیس میں ملازم ہیں، اور خلیل بلوچ ولد شیر احمد بلوچ (38 سال)، جو پراپرٹی ڈیلر ہیں، کو علی الصبح ان کے گھر سے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔

12 جولائی کو سوراب کے رہائشی سعید احمد ولد عبدالعزیز (19 سال)، جو مزدور ہیں، کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاع ملی۔

12 جون 2026 کو منگچر، قلات کے رہائشی نور زیب ولد دوست محمد (17 سال)، جو ایف ایس سی فرسٹ ایئر کے طالب علم ہیں، کو کوئٹہ کے سریاب روڈ سے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی رپورٹ سامنے آئی۔

10 جولائی 2026 کو ضلع بارکھان کے رہائشی بختیار بلوچ ولد میر خان بلوچ (23 سال)، جو طالب علم ہیں، کو پنجاب کے نشتر ہسپتال، ملتان سے حراست میں لینے کے بعد جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

ادھر حالیہ دنوں میں تین افراد کی بازیابی بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ کوہلو کے رہائشی دلشاد بلوچ ولد نظر محمد بلوچ، جنہیں 17 جولائی کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، 24 جولائی کو رکھنی، بارکھان میں بازیاب ہوئے۔

اسی طرح کوئٹہ کے علاقے سریاب کے رہائشی عزیز بلوچ ولد محمد سلطان، جو 23 جولائی کو دوسری مرتبہ جبری گمشدگی کا شکار ہوئے تھے، 24 جولائی کو بازیاب ہو گئے۔

مزید برآں سوراب کے رہائشی گل محمد ولد محمد جان، جنہیں 12 جولائی کو لاپتہ کیا گیا تھا، 26 جولائی کو سوراب میں بازیاب ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز