Homeخبریںخاش: قابض ایرانی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہونے والے دو بلوچ...

خاش: قابض ایرانی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہونے والے دو بلوچ بھائیوں کی شناخت سامنے آگئی

خاش (ھمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر خاش کے علاقے ناصری میں قابض فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے دو بلوچ شہریوں کی شناخت سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں آپس میں سگے بھائی تھے اور غیر مسلح حالت میں اپنی ذاتی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ فائرنگ کے بعد ان کی گاڑی ایک رکاوٹ سے ٹکرا گئی، جس کے بعد قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے تقریباً چھ منٹ تک جنگی اور نیم بھاری ہتھیاروں سے مسلسل فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر ہی شہید ہوگئے۔

شہید ہونے والوں کی شناخت عبدالمالک ریگی (گنگوزہی)، عمر تقریباً 30 سال، شادی شدہ، اور ان کے بھائی اسماعیل ریگی (گنگوزہی)، عمر تقریباً 22 سال، کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں داد محمد کے بیٹے، تحصیل تفتان کے گاؤں کلہ شاہ توت کے رہائشی اور سراوان میں مقیم تھے۔

ذرائع کے مطابق اسماعیل ریگی خاندان کے واحد کفیل تھے اور اپنے بھائی عبدالمالک کے ساتھ مل کر اپنی والدہ اور چار بہنوں کے اخراجات برداشت کرتے تھے۔ دونوں بھائیوں کی شہادت کے بعد ان کے خاندان کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ 25 جولائی 2026 کو پیش آیا، جب دونوں بھائی اپنی پرائیویٹ گاڑی میں ناصری کے علاقے سے گزر رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ گاڑی میں سوار کوئی بھی شخص مسلح نہیں تھا۔

قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز نے ابتدائی فائرنگ کر کے گاڑی کو ایک رکاوٹ سے ٹکرا دیا۔ گاڑی رکنے کے بعد اہلکاروں نے قریب جانے کے بجائے فاصلے سے تقریباً دس جنگی ہتھیاروں کے ذریعے مسلسل چھ منٹ تک گاڑی اور اس میں سوار افراد پر گولیوں کی بوچھاڑ کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ دونوں بھائیوں کی گاڑی کے علاوہ ایک رہائشی مکان کا مرکزی دروازہ اور قریب کھڑی گیس کمپنی کی ایک گاڑی بھی گولیوں کی زد میں آگئی۔ تاہم رہائشی مکان میں موجود افراد اور گیس کمپنی کی گاڑی میں سوار کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے بعد قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز نے شہریوں کو جائے وقوعہ کے قریب جانے سے روک دیا اور دونوں افراد کی لاشیں اپنے ساتھ منتقل کر دیں۔

رپورٹ کی اشاعت تک ایرانی فوجی اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جاں بحق افراد کی شناخت، فائرنگ کی وجہ، کارروائی کی نوعیت یا آس پاس کی املاک کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز