31 جولائی 2026
کوہٹہ( ہمگام نیوز) مقبوضہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سوررینج میں ایک کوئلہ کان میں میتھین گیس کے باعث دھماکے کے نتیجے میں 42 کانکن کان کے اندر پھنس گئے، جبکہ اب تک 6 کانکنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
محکمہ معدنیات اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق دھماکہ جمعرات کی سہ پہر پیش آیا، جس کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ تاہم ضروری اور خصوصی ریسکیو آلات کی کمی کے باعث امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کان میں موجود مزدوروں نے اپنی مدد آپ کے تحت 6 کانکنوں کی لاشیں باہر نکالیں، جبکہ دیگر پھنسے ہوئے مزدوروں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں کوئلہ کانوں کے حادثات ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران بلوچستان کی مختلف کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے حادثات میں 89 کانکن جان کی بازی ہار گئے تھے۔
مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ کوئلہ کانوں میں حفاظتی اقدامات کا فقدان ان حادثات کی بنیادی وجہ ہے، اور بارہا مطالبات کے باوجود کانکنوں کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا سکے ہیں۔


