تحریر ۔ ایس کے آزاد

 

ہر انقلابی جماعت یا قومی تحریک اپنے آغاز میں ایک خواب لے کر جنم لیتی ہے۔ اس خواب کا مرکز آزادی، انصاف، خودمختاری یا کسی ایسے مقصد کا حصول ہوتا ہے جسے اس کے کارکن اپنی قوم یا معاشرے کی بقا کے لیے ضروری سمجھتے ہیں ابتدا میں ایسے لوگ جمع ہوتے ہیں جن کے دل جذبے سے بھرے ہوتے ہیں، جو قربانی کو اعزاز سمجھتے ہیں اور مشکل راستوں سے گھبراتے نہیں مگر انہی صفوں میں کچھ ایسے افراد بھی شامل ہو جاتے ہیں جن کی وابستگی نظریے سے زیادہ اپنے ذاتی مفاد، شہرت یا مستقبل کے امکانات سے ہوتی ہے ۔

وقت گزرتا ہے حالات بدلتے ہیں مشکلات بڑھتی ہیں، اور وہ مقصد جس کے لیے جدوجہد شروع کی گئی تھی، جلد حاصل نہیں ہوتا۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں کسی تحریک کا اصل امتحان شروع ہوتی ہے ۔

انقلاب کوئی مختصر سفر نہیں تاریخ گواہ ہے کہ بڑی سیاسی اور قومی تبدیلیاں اکثر برسوں بلکہ دہائیوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد وجود میں آئی ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چند سال کی محنت کے بعد ہر مقصد حاصل ہو جانا چاہیے، وہ سیاست اور تاریخ کے فطری عمل کو نظر انداز کرتے ہیں۔ جدوجہد کا راستہ سیدھا نہیں ہوتا، اس میں کامیابیاں بھی آتی ہیں ناکامیاں بھی، پیش رفت بھی ہوتی ہے اور پسپائی بھی جب نتائج توقعات کے مطابق سامنے نہیں آتے تو تحریک کے اندر مختلف رویے جنم لیتی ہیں کچھ لوگ خاموش ہو جاتے ہیں۔ وہ نہ ساتھ چھوڑتے ہیں اور نہ کردار ادا کرتے ہیں۔ کچھ مایوسی کا شکار ہو کر کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ مگر ایک تیسرا طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنی ناکام امیدوں یا ذاتی اختلافات کو اصولی اختلاف کا نام دے کر پروپیگنڈا شروع کر دیتا ہے وہ کل تک جس تحریک کی تعریف کرتا تھا، آج اسی کی کمزوریوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، اور کبھی کبھی دشمن کے بیانیے کو بھی تقویت پہنچا دیتا ہے یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کسی تحریک کی رفتار سست ہونے سے اس کا مقصد غلط ثابت ہو جاتا ہے؟جواب نفی میں ہے۔

کسی مقصد کی سچائی کا پیمانہ اس کی فوری کامیابی نہیں، بلکہ اس کی اخلاقی، سیاسی اور عوامی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر ہر ناکامی کے بعد نظریہ بدل دیا جائے، تو دنیا میں کوئی بڑی تحریک کبھی منزل تک نہ پہنچتی۔

اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر تحریک تنقید سے بالاتر ہے۔ ہر جماعت کو احتساب، اصلاح اور خود تنقیدی کی ضرورت ہوتی ہے۔ قیادت کی غلطیوں کی نشاندہی، حکمت عملی پر سوال اٹھانا اور بہتر تجاویز دینا کسی بھی زندہ تحریک کی علامت ہے۔ لیکن تعمیری تنقید اور تخریبی پروپیگنڈے میں واضح فرق ہوتا ہے۔ تنقید اصلاح کا دروازہ کھولتی ہے، جبکہ پروپیگنڈا اعتماد توڑتا ہے، صفوں میں انتشار پیدا کرتا ہے اور مخالف قوتوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

اصل وفاداری کا امتحان کامیابی کے دنوں میں نہیں بلکہ مشکل وقت میں ہوتا ہے۔ جب راستہ طویل ہو، وسائل محدود ہوں اور نتائج سست ہوں، تب ہی معلوم ہوتا ہے کہ کون نظریے کے ساتھ کھڑا ہے اور کون صرف حالات کے ساتھ ہر انقلابی کارکن کو یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیے کہ تحریکیں افراد سے بڑی ہوتی ہیں، اور مقاصد وقتی جذبات سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ اختلاف رکھنا حق ہے، اصلاح کا مطالبہ بھی ضروری ہے مگر اگر اختلاف ذاتی مایوسی، انا یا مفاد کی بنیاد پر پروپیگنڈے میں بدل جائے تو اس کا نقصان صرف جماعت کو نہیں بلکہ اس مقصد کو بھی پہنچتا ہے جس کے لیے جدوجہد شروع کی گئی تھی تاریخ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے طویل راستے میں صبر، استقامت اور دیانت کو اپنا سرمایہ بنایا۔ وقتی مایوسی، شور اور پروپیگنڈا وقتی اثر تو پیدا کر سکتے ہیں، مگر قوموں کی تقدیر ان لوگوں کے ہاتھوں بدلتی ہے جو مشکلات کے باوجود اپنے مقصد کے ساتھ ثابت قدمی سے وابستہ رہتے ہیں، اصلاح بھی کرتے ہیں اور ذمہ داری بھی نبھاتے ہیں