تہران(ہمگام نیوز) انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی مختلف جیلوں میں کم از کم 8 خواتین سزائے موت کا سامنا کر رہی ہیں، جن میں 4 خواتین کے مقدمات جنوری میں ہونے والے ملک گیر احتجاج سے منسلک ہیں۔

تنظیم  کے مطابق ان خواتین کو سیاسی، سکیورٹی اور احتجاج سے متعلق مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان پر عائد الزامات میں ’’مسلح بغاوت‘‘، ’’محاربہ‘‘ اور ’’زمین میں فساد‘‘ جیسے جرائم شامل ہیں، جن پر ایرانی قانون کے تحت سزائے موت دی جاسکتی ہے۔

جنوری کے احتجاج سے متعلق سزائے موت پانے والی خواتین میں مریم حدادوند، مہناز چاردولی، لیلا ابوالحسنی اور ترانہ رحیمی شامل ہیں۔ 45 سالہ مریم حدادوند، جو دو بچوں کی ماں ہیں، کو 8 جنوری کو تہران کے جنوب مشرقی علاقے پاکدشت میں ہونے والے واقعات کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں نے بھی ایران میں احتجاجی مظاہرین کے خلاف سزائے موت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مارچ سے اگست 2026 کے دوران حالیہ احتجاج سے متعلق 29 افراد کو پھانسی دی جاچکی ہے اور مزید متعدد افراد کو سزائے موت کا خطرہ لاحق ہے۔

ایران میں خواتین کو دی جانے والی سزاؤں کے حوالے سے حالیہ رپورٹس میں بھی اضافہ سامنے آیا ہے۔ ہیومن رائٹس تنظیم ہینگاؤ کے مطابق اگست میں ایران میں 6 خواتین کو پھانسی دی گئی، جبکہ ترانہ رحیمی سمیت متعدد خواتین کو قید یا سزائے موت سنائی گئی۔

انسانی حقوق کے گروپس کا کہنا ہے کہ احتجاج سے متعلق مقدمات اور سزاؤں میں شفاف عدالتی کارروائی، قانونی نمائندگی اور منصفانہ سماعت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایرانی حکام کی جانب سے ان مخصوص 8 خواتین کے مقدمات پر فوری طور پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔