رپورٹ

ایرانی مقبوضہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تنظیم حال وش کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں ہفتہ 10 اکتوبر 2026 کو قابض ایرانی حکومت کے زیر اثر میڈیا ادارے نور نیوز نے، جو ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سے وابستہ ہے، دعویٰ کیا کہ ’’عوامی جنگجو محاذ‘‘ (جبهه مبارزین مردمی) کہلانے والے گروہوں میں 50 ہزار افراد کو منظم کیا گیا ہے، جن میں سے 1,500 افراد کو ایران کے اندر بھیجا گیا ہے۔ ان دعوؤں کے حق میں قابل جانچ شواہد پیش نہیں کیے گئے، جس سے یہ خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ حکومت اس سکیورٹی بیانیے کو مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ عوام کے خلاف مزید دباؤ اور کریک ڈاؤن کا جواز بنانے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

نور نیوز نے مقبوضہ بلوچستان میں حالیہ جنگوں کے واقعات کے دوران صوبائی پولیس کمان کے ثقافتی و سماجی امور کے نائب سربراہ کرنل نصرت افتخاری پودینہ کی ہلاکت کے بعد یہ دعویٰ سامنے لایا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نام نہاد ’’عوامی جنگجو محاذ‘‘ کے گروہوں میں 50 ہزار افراد کو منظم کیا گیا ہے اور ان میں سے تقریباً 1,500 افراد کو ایران کے اندر بھیجا گیا ہے۔ اس میڈیا ادارے نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ خلیج فارس کے بعض عرب ممالک خطے میں سرگرم مسلح گروہوں کی مالی، انٹیلی جنس اور عسکری معاونت کر رہے ہیں۔

ان دعوؤں کی وسیع نوعیت کے باوجود نور نیوز نے 50 ہزار افراد کے اعداد و شمار کے ماخذ، ان افراد کی شناخت کے معیار، 1,500 افراد کو ایران میں بھیجنے کے طریقۂ کار یا غیر ملکی معاونت سے متعلق شواہد کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ چنانچہ یہ اعداد و شمار تاحال ایرانی حکومت سے وابستہ ایک میڈیا ادارے کے دعوے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات کی بنیاد پر ممکن نہیں ہے۔

دسیوں ہزار افراد پر مشتمل ایک منظم نیٹ ورک اور ایران کے اندر بھیجے گئے افراد کی موجودگی کا دعویٰ ایک وسیع شورش کا تاثر پیدا کر سکتا ہے۔ اگر حکومتی ادارے اس بیانیے کو وسیع تر سکیورٹی کارروائیوں کے جواز کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو اس کے اثرات صرف مسلح افراد اور گروہوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بلوچستان میں عام شہریوں کی زندگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ خدشات اس لیے مزید اہمیت اختیار کر جاتے ہیں کہ ایرانی حکومت ان اعداد و شمار کا حوالہ دے کر بلوچستان میں سکیورٹی اقدامات سخت کرنے، گرفتاریوں میں اضافے اور شہریوں پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ تاہم، فی الحال ایسے کافی شواہد موجود نہیں ہیں جن سے ثابت ہو کہ یہ مخصوص اعداد و شمار ان اقدامات کی راہ ہموار کرنے کے مقصد سے جاری کیے گئے ہیں۔ اس لیے آئندہ پیش رفت اور سکیورٹی اداروں کے عملی اقدامات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

نور نیوز نے خطے کے بعض ممالک پر مسلح گروہوں کی مالی، انٹیلی جنس اور عسکری معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے سکیورٹی صورت حال کو غیر ملکی مداخلت کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ تاہم، اگر مسلح گروہوں کے غیر ملکی روابط سے متعلق دعوے سامنے آتے بھی ہیں تو وہ بذات خود بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورت حال، ساختی امتیاز، معاشی محرومیوں اور بلوچ عوام کے خلاف سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں سے متعلق بنیادی سوالات کا جواب نہیں ہیں۔

ایرانی حکومت محض سکیورٹی خطرات کو نمایاں کرکے اپنے اداروں کی کارروائیوں اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق جواب دہی کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ مسلح کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے نام پر بھی من مانی گرفتاریاں، اجتماعی سزا، شہری حقوق پر پابندیاں یا نسلی شناخت اور رہائشی علاقے کی بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بنانے کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔

اگر حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار مستند ہیں تو ان کی بنیاد کیا ہے؟ یہ معلومات کس ادارے نے جمع کی ہیں؟ پچاس ہزار افراد کو منظم کرنے سے کیا مراد ہے اور ان افراد کے مذکورہ گروہوں سے کس نوعیت کے روابط ہیں؟ ان اعداد و شمار اور غیر ملکی معاونت کے الزامات کے حق میں قابل جانچ شواہد کیوں جاری نہیں کیے گئے؟

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایرانی حکومت ان دعوؤں کو بلوچستان میں وسیع تر سکیورٹی اقدامات کا جواز بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے؟ اس سوال کا جواب آئندہ حکومتی اقدامات، بشمول گرفتاریوں، ممکنہ پابندیوں اور سکیورٹی فورسز کے مقامی آبادی کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ لینے سے زیادہ واضح ہو سکے گا۔

حال وش نے زور دیا ہے کہ حکومت کے سکیورٹی سے متعلق دعوؤں کو عوام کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا جواز نہیں بننا چاہیے۔ قابل جانچ شواہد کے بغیر بڑے اعداد و شمار جاری کرنا شفافیت اور جواب دہی کا متبادل نہیں ہے، بلکہ اس سے ان دعوؤں کے سکیورٹی اور انسانی حقوق پر ممکنہ اثرات کی آزادانہ نگرانی کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ بلوچ عوام کو ایسے دعوؤں کی قیمت نہیں چکانی چاہیے جن کی بنیاد اور صداقت عوام کے سامنے

واضح نہیں کی گئی۔